بسم اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب خادم>
ملعون ہوئے جلانے والے
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته...
اللہ تعالی کی کتاب میں....”سورۃ
البروج“ پڑھیں....اسمیں ”أصحاب الأخدود“
کا تذکرہ ہے...اور ان پر لعنت اور پھٹکار بھیجی گئی ہے....یہ ”أصحاب الأخدود“ بھی
”یہودی“ تھے.... قاتل، ظالم یہودی....جنہوں نے اس زمانے کا ”دین حق“ قبول کرنے
والوں کو آگ کی خندقوں میں جلا کر شہید کیا.....اس زمانے کا ”دین حق“ ”عیسائیت“...ہمیشہ
یہودیوں کے ظلم و ستم کا نشانہ رہا....کوشش کریں کہ ایک بار ”سورۃ البروج“ کو سمجھ
کر پڑھ لیں.....آج کے ”غزہ“ کا منظر آنکھوں کے سامنے آجائے گا....آگ ہی آگ اور اس
میں جلتے انسان.....مگر ”جلنے“ والے کامیاب اور جلانے والے ناکام......آگ میں پھینکے
جانے والے اہل حق.....بغیر تکلیف کے سیدھے ”جنتوں“ اور ”نعمتوں“ میں جا رہے
تھے.....جب کہ جلانے والے سخت اذیت اور تکلیف سے جل مرے....دنیا اور اس کی حکومتیں
”مچھر“ کا پر ہیں....کبھی کسی کو ملتی ہیں تو کبھی کسی کو.....کامیاب بس وہ ہے جو
ایمان پر رہے....اور ایمان پر دنیا سے رخصت ہو......اسی لئے ”سورۃ البروج“ میں
اللہ تعالی نے قاتلوں کو ملعون اور مقتول قرار دیا....اور جلنے والے ایمان والوں
کو کامیاب.....اللہ تعالی یہ نکتہ......بلکہ یہ حقیقت ہر مسلمان کے دل میں اتار دیں.....تاکہ
کوئی مسلمان.....صرف جان بچانے کے لئے ”ایمان“ قربان نہ کرے.....بلکہ ”ایمان“
بچانے کے لئے ”جان“ قربان کرے....وہ لوگ جو مسلمانوں کو بچانے کے لئے ”جہاد“ کا
انکار کرتے ہیں.....وہ بے فکر ہو جائیں.....مسلمان اس دنیا سے ختم نہیں ہو
سکتے....بے شک سارے مسلمان جہاد میں نکل پڑیں.....اور ساری دنیا کا اسلحہ ان پر چل
پڑے.....مسلمان تب ختم ہوں گے جب اس دنیا نے ختم ہونا ہوگا.....یہ ”ختم نبوت“ کی
برکت ہے کہ....مسلمان آخری اُمت ہیں....اور ان کا جڑ سے مکمل خاتمہ ناممکن ہے....
ایک گزارش
تحریر میں کوئی چیز اوپر نیچے یا آگے
پیچھے لکھنے سے ”بے ادبی“ کے زمرے میں نہیں آتی..... آپ ”عبداللہ“ لکھتے ہیں....اس
میں ”عبد“ پہلے آیا اور لفظ ”اللہ“ بعد میں...کیا یہ بے ادبی ہے؟...آپ ”محمد رسول
اللہ“ لکھتے ہیں...”محمد“ پہلے اور لفظ ”اللہ“ بعد میں....کیا یہ بے ترتیبی
ہے؟....ہرگز نہیں...اسی طرح ”بسم اللہ“ اوپر لکھتے ہیں اور اس کے نیچے قران مجید کی
آیت....کیا یہ بے ادبی ہے؟ آپ کوئی خط یا مضمون لکھتے ہیں....پہلے خیر خیریت لکھتے
ہیں اور پھر نصیحت کے لئے کوئی آیت یا حدیث....کیا یہ بے ادبی ہے؟...ہرگز نہیں....بندہ
کی کوشش ہوتی ہے کہ...مکتوب کے شروع میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ ہو...تحریر کا
آغاز اسم ذات ”اللہ“ سے ہو....اور مکتوب کا اختتام کلمہ طیبہ پر ہو....کیونکہ حدیث
شریف میں آیا ہے کہ....جس کا آخری کلام ”لا الہ الا اللہ“ ہوگا وہ جنت میں داخل
ہوگا....تو اپنے ”مکتوب“ کا آخری کلام....”کلمہ طیبہ“ کو بنایا ہے....اس امید پر
کہ مرتے وقت بھی آخری کلام ”کلمہ طیبہ“ نصیب ہو....اب اسمیں خدانخواستہ کونسی ”بے
ادبی“ یا شریعت کے کون سے حکم کی خلاف ورزی ہو گئی ؟....
والسلام
خادم.....لااله الاالله محمد رسول
الله