بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته...

اللہ تعالی نے عظیم بشارت دی ہے...ارشاد فرماتے ہیں:-

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (فصلت ۳۳)

ترجمہ: اور اس سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے جو اللہ تعالی کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے میں مسلمانوں میں سے ہوں...

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ تعالی اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:

”مفسرین نے لکھا ہے کہ جو شخص بھی اللہ تعالی کی طرف کسی کو بلائے...وہ اس بشارت اور تعریف کا مستحق ہے،خواہ کسی طریقے سے بلائے...

انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام معجزہ وغیرہ سے بلاتے ہیں...اور علماء دلائل سے...مجاہدین تلوار سے اور مؤذنین اذان سے...غرض جو بھی کسی شخص کو دعوت الی الخیر کرے وہ اس میں داخل ہے“ (فضائل اعمال)

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ تعالی نے یہ عبارت تفسیر الخازن سے نقل فرمائی ہے...تفسیر الخازن میں ہے:

”دعوة المجاهدين الى الله تعالیٰ بالسیف فھم یجاھدون الکفار حتی یدخلوا فی دین اللہ و طاعته (الخازن تفسیر فصلت)

یاد رکھیں ”دعوت الی اللہ“ بہت بڑا منصب اور بہت افضل عمل ہے...اور آپ نے پڑھ لیا کہ یہ دعوت تلوار یعنی قتال سے بھی ادا ہوتی ہے...جیسا کہ اس وقت فلسطین اور غزہ کے مجاہدین کی ”دعوت الی اللہ“ ہے...ان کے اس جہاد نے لاکھوں، کروڑوں مسلمانوں کو اللہ تعالی کی طرف متوجہ کیا ہے...اور اللہ تعالی کے احکامات کی طرف بلایا ہے...ان کی اس خون آلود ”دعوت“ سے مردہ قلوب زندہ ہوئے ہیں...کمزور جذبے مضبوط ہوئے ہیں...اور بے شمار مسلمان اعمال صالحہ کی طرف آئے ہیں...چنانچہ غزہ کے مجاہدین...آج ”داعی الی اللہ “بھی ہیں اور مجاہدین بھی...وہ دعوت کا عظیم اجر بھی پا رہے ہیں اور جہاد کا اجر عظیم بھی.......آج ان کے تذکرے،انکی کارگزاری اور ان کی قربانی سے.......اللہ تعالی یاد آتے ہیں.....اب آپ بتائیں کہ اس وقت ان سے بہتر بات اور کس کی ہو سکتی ہے؟

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ.....

والسلام

خادم......لااله الاالله محمد رسول الله