بسم اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب خادم>
حفاظت، کفالت، اعانت
السلام علیکم ورحمةالله
وبرکاته...
اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ
وسلم کو تین باتوں کا حکم فرمایا
(۱) آپ کافروں اور منافقوں کا
کہنا نہ مانیں...ان کے دباؤ کی وجہ سے دین کا...خصوصا جہاد کا کام نہ چھوڑیں
(۲) آپ کافروں اور منافقوں کے
ظلم اور ستم کی پرواہ نہ کریں اور جہاد کا کام جاری رکھیں....(۳) آپ اللہ تعالی پر ”توکل“ یعنی
اعتماد اور بھروسہ کریں...
ان تین باتوں کے حکم کے بعد اللہ
تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین باتوں کا وعدہ فرمایا
(۱) اللہ تعالی آپ کی ”حفاظت“
فرمائیں گے
(۲) اللہ تعالی دین اور جہاد کے
کاموں میں آپ کی نصرت و اعانت فرمائیں گے
(۳) اللہ تعالی آپ کو رزق عطاء
فرمائیں گے.....
آپ پوچھیں گے کہ.....اللہ تعالی کے یہ
تین حکم اور تین وعدے کون سی آیت مبارکہ میں ہیں؟..جواب یہ ہے کہ سورہ الاحزاب کی
آیت (٤٨) میں یہ سارا مضمون موجود ہے......
”وَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ
وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ وَكَفىٰ بِاللّٰهِ
وَكِيْلًا“
ترجمہ؛ اور آپ کہنا نہ مانیں کافروں
اور منافقوں کا..اور ان کی تکلیف پر نظر نہ کریں اور اللہ تعالی پر بھروسہ کریں
اور اللہ تعالی کافی ہے وکیل یعنی کام بنانے والا......
اس آیت مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کو تاکید فرمائی گئی کہ...دین کا کام جاری رکھیں...جہاد کا کام جاری رکھیں..اس
راستے میں آنے والی تکالیف پر نظر نہ فرمائیں...اور اللہ تعالی پر ”توکل“ کریں....
یہ سب کچھ بہت مشکل ہے تو آگے وعدہ
فرمایا:-
”وَكَفىٰ بِاللّٰهِ وَكِيْلًا“
کہ اللہ تعالی آپ کے لئے کافی وکیل ہیں...امام
بغوی لکھتے ہیں:
”حافظاًلك“ اللہ تعالی آپ کے محافظ ہیں.....”کفیلاً
برزقك“ وہ آپ کے رزق کے ذمہ دار ہیں... امام قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائیں
گے...اور آپ کے مخالف آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے...
امام سعدی فرماتے ہیں:
اللہ تعالی آپ کے کاموں کو پورا
فرمائیں گے...کیونکہ جو شخص بھی اپنا معاملہ اپنے مالک کے سپرد کر دے....اللہ تعالی
ایسے شخص سے ایک پوری امت جتنا کام لے لیتے ہیں....
”وَكَفىٰ بِاللّٰهِ وَكِيْلًا“
والسلام
خادم......لااله الاالله محمد رسول
الله