بسم اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب خادم>
اللہ تعالیٰ پر ”توکل“ کا
مطلب
السلام علیکم ورحمةالله
وبرکاته..
اللہ تعالی پر ”توکل“ انسان کو
”طاقتور“ بنا دیتا ہے...حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں...
”مَنْ سَرَّهٗ أَنْ یَّکُوْنَ
أَقْوَی النَّاسِ فَلْیَتَوَکَّلْ عَلٰی اللّٰهِ“
جو چاہتا ہو کہ لوگوں میں سب سے زیادہ
طاقتور بن جائے تو وہ اللہ تعالی پر توکل (یعنی اعتماد اور بھروسہ) کرے....
”وَمَنْ سَرَّهٗ أَنْ یَّکُوْنَ
أَکْرَمَ النَّاسِ فَلْیَتَّقِ اللّٰهَ“
اور جو چاہتا ہو کہ لوگوں میں سب سے
زیادہ عزت والا بن جائے تو وہ اللہ تعالی سے ڈرے، تقوی اختیار کرے (گناہوں
سے.....اللہ تعالی کے خوف کی وجہ سے بچے)
”وَمَنْ سَرَّهٗ أَنْ یَّکُوْنَ
أَغْنَی النَّاسِ فَلْیَکْتَفِ بِرِزْقِ اللّٰهِ“
اور جو چاہتا ہو کہ لوگوں میں سب سے
زیادہ غنی (یعنی بے نیاز) بن جائے تو وہ اللہ تعالی کے دیئے ہوئے رزق کو کافی
سمجھے....(اخرجہ احمد فی الزُھد)
اللہ تعالی پر ”توکل“ کرنے کا کیا
مطلب ہے؟ یہ بات سمجھانے کے لئے ”اہل علم“ نے ہزاروں صفحات لکھے ہیں...کیونکہ
”توکل“ کا مطلب یہ نہیں کہ اسباب کو چھوڑ دیا جائے....بلکہ ”توکل“ کا مطلب یہ ہے
کہ اسباب پر بھروسہ نہ کیا جائے...بلکہ بھروسہ اور اعتماد اللہ تعالی پر ہو...اور
اسباب کے انتظار میں نہ بیٹھا رہے...بہرحال ”توکل“ کے مطلب کو سمجھنا آسان نہیں ہیں...تو
پھر کیا کیا جائے؟.....”توکل“ تو ہمارے ایمان کے لئے لازم اور فرض ہے...توکل نہیں
ہوگا تو ایمان بہت کمزور رہ جائے گا...اور ہم کوئی کام بھی نہیں کر سکیں گے...کل
کے مکتوب کا جو عنوان تھا وہ قرآن مجید کے الفاظ تھے ”وَ عَلَى اللّٰهِ
فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ“.....فرعون سے آزادی کے بعد اللہ
تعالی نے ”بنی اسرائیل“ کو فلسطین و شام کی ”مقدس سرزمین“ کا راستہ دیا...اور
ارشاد فرمایا کہ یہ سرزمین تمہیں رہنے کے لئے دی جائے گی لیکن تمہیں اس کے لئے
جہاد فی سبیل اللہ کرنا ہوگا.......اس وقت اس سرزمین پر بہت طاقتور لوگ قابض
تھے...بنی اسرائیل نے ”اسباب“ کے لحاظ سے اندازہ لگایا کہ ان طاقتور لوگوں سے لڑنا
ناممکن ہے اور ہلاکت ہے...چنانچہ انہوں نے انکار کر دیا...تب ان سے فرمایا گیا...
”وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا
اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ“
اللہ تعالی پر توکل کرو اگر تم ایمان
والے ہو....یعنی اپنی کمزوری اور اپنے اسباب کی قلت کو نہ دیکھو....اللہ تعالی کی
طاقت اور قدرت پر بھروسہ کر کے جہاد شروع کر دو وہ تمہیں کامیابی عطاء فرمائے
گا......اب اس آیت اور واقعہ سے ہم ”توکل“ کا معنی سمجھ سکتے ہیں....مزید ”توکل“
کے معنی کو سمجھنے اور ”توکل“ کی نعمت پانے کے کچھ آسان نسخے اگلے مکتوب میں ان
شاءاللہ....
والسلام
خادم.....لااله الاالله محمد رسول
الله