بسم اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب خادم>
توکل کی خاص دعاء
السلام علیکم ورحمةالله
وبرکاته..
اللہ تعالی پر ”توکل“ کرنے والوں کی
عجیب شان ہوتی ہے...وہ کبھی بھی خود کو ”تنہا“ اور ”بے بس“ محسوس نہیں کرتے...وہ دیکھیں
دشمن سر پر کھڑے ہیں مگر غار ثور میں نہایت اطمینان سے فرمایا جا رہا ہے:-
”لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ
مَعَنَا“
ترجمہ: ”غم نہ کرو بے شک اللہ تعالی
ہمارے ساتھ ہیں“
فرعون کا لشکر سر پر پہنچ گیا...بنی
اسرائیل خوف سے بدکنے لگے تو دلکش آواز گونجی
”کَلَّا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ“
ترجمہ : ”فرعون کچھ نہیں کر سکتا بے
شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے پہنچائے گا“
اسی لئے سید التابعین حضرت امام سعید
بن جبیر شہید رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ...
”توکل ایمان کا سر ہے“
یعنی توکل ہوگا تو ایمان بچے
گا...ورنہ بے یقینی کی کیفیت ایمان کو ہی ختم کر دے گی....
اللہ تعالی کی باتیں (نعوذ باللہ)
مذاق نہیں ہوتیں...انہوں نے فرما دیا کہ میں ہی ”رزاق“ ہوں...یعنی رزق دینے
والا...اور ہر کسی کا رزق میرے ذمہ ہے...اور رزق کی تقسیم ہو چکی ہے...اب جو اپنے
رب کی ان باتوں پر یقین کرے گا وہ کیوں چوری کرے گا؟ وہ کیوں سود کھائے گا؟ وہ کیوں
حرام نوکری کرے گا؟...وہ کیوں کسی کے حق پر قبضہ کرے گا؟...وہ کیوں کسی سے سؤال
کرے گا؟...اللہ تعالی پر سچا یقین کرنا...اور اس یقین کی بنیاد پر عمل کرنا اسے
”توکل“ کہتے ہیں...اور یہ توکل جتنا سچا ہوتا جاتا ہے...انسان ”اسیقدر“ مضبوط اور
کامیاب ہوتا چلا جاتا ہے...حضرت سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ یہ دعاء مانگا
کرتے تھے:-
”اَللّٰهُمَّ إِنِّي أسْأَلُكَ
صِدْقَ التَّوَكُّلِ عَلَيْكَ وَحُسْنَ الظَّنِّ بِكَ“
یا اللہ میں آپ سے سؤال کرتا ہوں آپ
پر سچے توکل کا اور آپ سے ”حسن ظن“ کا....
یہ بڑی زبردست اور پرکیف دعاء
ہے...اسے جتنے اخلاص اور کثرت سے مانگتے جائیں اسیقدر ”توکل“ کی نعمت نصیب ہوتی چلی
جاتی ہے...یہ دعاء دراصل ایک مسنون، مأثور دعاء کا حصہ ہے...اس دعاء کا تذکرہ اگلے
مکتوب میں ان شاءاللہ تعالی...
والسلام
خادم.....لااله الاالله محمد رسول
الله