بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

”توکّل“ کی مسنون دعاء

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی ”توّکل“ کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں....

”اِنَّ  اللّٰهَ  یُحِبُّ  الْمُتَوَكِّلِیْنَ“(آل عمران 159)

ترجمہ: یقینا اللہ تعالی محبت فرماتے ہیں ”توّکل“  اختیار کرنے والوں سے....

حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک دعاؤں میں یہ دعاء بھی شامل ہے:

”اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْلُکَ التَّوْفِیقَ لِمَحَابِّکَ مِنَ الْاَعْمَالِ وَ صِدْقَ التَّوَکَّلِ عَلَیکَ وَ حُسْنَ الظَّنِّ بِکَ“

(اخرجہ ابن ابی الدنیا و الدار قطنی)

ترجمہ: ”یا اللہ میں آپ سے مانگتا ہوں آپ کے محبوب اعمال کی توفیق...اور آپ پر سچا توکل اور آپ کے ساتھ حسن ظن“......

اچھا ہوگا کہ اس مسنون دعاء کو ہم یاد کر لیں....اور اس وقت تک پابندی سے مانگتے رہیں....جب تک کہ ہمیں اپنے دل میں ”توکل علی اللہ“ کی خوشبو اور مٹھاس محسوس نہ ہو....”توکل“ دراصل انسان کو ایک عجیب شان عطاء کرتا ہے...حضرت ابو حازم رحمہ اللہ تعالی فرمایا کرتے تھے:-

میں فقر اور محتاجی سے کیسے ڈروں؟ جبکہ میرا مولیٰ وہ ہے جو آسمانوں، زمینوں اور جو کچھ ان کے اوپر اور نیچے ہے ان سب کا مالک ہے...

حضرت امام شافعی رحمہ اللہ تعالی فرماتے تھے:

تَوَكَّلتُ فِيْ رِزْقِيْ عَلٰى اللّٰهِ خَالِقِيْ

 

وَأَيْقَنْتُ أَنَّ اللّٰهَ لَا شَكَّ رَازِقِيْ

 

وَمَا يَكُ مِنْ رِّزْقِيْ فَلَيْسَ يَفُوْتَنِيْ

 

وَلَوْ كَانَ فِيْ قَاعِ البِحَارِ الْعَوَامِقِ

 

سَيَأْتِيْ بِهِ اللّٰهُ الْعَظِيْمُ بِفَضْلِهٖ

 

وَلَوْ لَمْ يَكُنْ مِنِّيْ اللِّسَانُ بِناطِقِ

 

ترجمہ:”میں نے اپنے رزق کے معاملہ میں اپنے خالق اللہ تعالی پر ”توکل“ کیا ہے...اور مجھے یقین ہے کہ بے شک اللہ تعالی مجھے ضرور رزق دیں گے....اور  اللہ تعالی نے میرا جو رزق مقدر فرما دیا ہے وہ مجھے ہر حال میں مل کر رہے گا....اگرچہ وہ گہرے سمندروں کی تہہ میں ہو....میرا رزق میرے عظیم اللہ تعالی اپنے فضل سے مجھے پہنچائیں گے...اگرچہ میری زبان اس کے بارے میں کچھ نہ بولے“...

مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله