بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

حسبی اللہ الحسیب

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کے ساتھ ”محبت“ اور ”اعتماد“ والا تعلق نصیب ہو جائے...بس اسی یقین والے تعلق کو ”توکل“ کہتے ہیں...”توکل“ نصیب ہو جائے تو ہجرت بھی آسان...جہاد بھی آسان...حرام سے بچنا بھی آسان...اور دین کے تمام بڑے بڑے کام آسان...

”توکل“ کی عظیم اور شاندار ”دعاء“

”حَسْبِیَ ﷲُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ العَظِیْمِ“

اس دعاء کا آغاز ”حَسْبِیَ ﷲُ“ سے ہوتا ہے...”حسب“ کا معنیٰ کافی ہونا...پورا پورا مددگار ہونا...اللہ تعالی کا اسم مبارک ہے ”الحسیب“...اسی سے بعض اہل معرفت نے دعاء بنائی ہے:-

”حسبی اللہ الحسیب“

یعنی اللہ تعالیٰ جو ”الحسیب“ ہیں وہ میرے لئے کافی ہیں...وہ میرے مکمل مددگار ہیں...بعض اہل دل کے نزدیک ”حسبی اللہ الحسیب“ کی دعاء میں ”اسم اعظم“ کی تأثیر موجود ہے.....واللہ اعلم باالصواب....بہرحال ”حَسْبِیَ ﷲُ“ کا معنیٰ ہے...اللہ تعالی میرے لئے ہر اس چیز میں کافی ہیں جو چیز مجھے فکر اور پریشانی میں ڈالتی ہے...اس دعاء کا دوسرا جملہ.....لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ...یہ”کلمہ توحید“ ہے...جو سات آسمانوں اور سات زمینوں سے زیادہ بھاری...اور زیادہ طاقتور ہے...اسمیں ہر ”غیراللہ“ کی نفی ہے...اور ”اللہ تعالی“ کی الوہیت اور وحدانیت کا اثبات ہے...یہ ایک مؤمن کے لئے دل کے اطمینان کا سب سے بڑا ذریعہ ہے کہ...ہر نفع اور ہر نقصان کا مالک صرف اللہ تعالی ہے...اور اللہ تعالی کے سوا کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتا...مگر اللہ تعالی کی مرضی اور مشیت سے...اور اس دعاء کا تیسرا حصہ...اللہ تعالی پر توکل کا اعلان ہے”عَلَیہِ تَوَکَّلْتُ“...اسمیں ”عَلَیہِ“ کو پہلے لانے سے تاکید اور اختصاص ہوگیا کہ.....میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور توکل کرتا ہوں...اللہ تعالی کے سوا کسی اور پر نہیں...اور نہ ہی اسباب پر.....

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله