بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تعطُّل
نہیں توکُّل
السلام
علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ
تعالی ہم سب کو ”تعطُّل“ سے بچائیں...”تعطُّل“ کا معنی یہ ہے کہ...ہاتھ پر ہاتھ
رکھ کر بیٹھے رہنا...اللہ تعالی کے دیئے ہوئے”اسباب“ کو استعمال نہ کرنا...اور یہ
کہنا کہ اللہ تعالی خود ہی سب کچھ کر دیں...یہ ”توکل“ نہیں ”تعطُّل“ ہے...اور یہ
”ناجائز“ ہے...ہم نے گزشتہ دو مکتوبات میں جو دو آیات پڑھیں....انمیں بنی اسرائیل
کو ”تعطُّل“ سے نکل کر ”توکل“ پر آنے کا حکم تھا....”بنی اسرائیل“ مصر میں غلامی
اور ذلت کی زندگی گزار رہے تھے....مگر وہ اس ذلت، رسوائی اور غلامی پر بالکل خاموش
بیٹھے تھے...حضرت سیدنا موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان میں ”جذبہ آزادی“
ابھارا...اور فرمایا کہ تم جو کچھ کر سکتے ہو وہ کرو باقی سب کچھ اللہ تعالی کر دیں
گے...بنی اسرائیل نے پوچھا کہ ہم اتنے طاقتور دشمن کے سامنے کیا کر سکتے ہیں...فرمایا!
یہ تو کر سکتے ہو کہ سب اکٹھے ہو کر...ہجرت کرو...سمندر کی طرف چلو....اس کی اللہ
تعالی نے تمہیں طاقت دے رکھی ہے...دی ہوئی طاقت استعمال کر کے باقی معاملہ اللہ
تعالی پر چھوڑ دو....بنی اسرائیل مان گئے...”تعطُّل“ سے نکل کر وہ ”توکل“ پر
آئے...یعنی اللہ تعالی اور اس کے رسول کے وعدے پر یقین کرتے ہوئے ایک رات ہجرت کے
لئے نکل پڑے....فرعون پیچھے آیا...وہ خشکی کا بادشاہ تھا...سمندر میں اللہ تعالی
نے اس کی موت رکھی تھی...اور یوں بنی اسرائیل نے ”توکل“ سے کام لیا اور فرعون غرق
ہو گیا....دوسری آیت مبارکہ میں یہ بتایا گیا کہ...ایک بار پھر بنی اسرائیل کو
”توکل“ کا حکم ملا...مگر وہ ”تعطل“ کا شکار ہو گئے...جس کی انہوں نے سزا پائی...ہوا
یوں کہ فرعون سے آزادی کے بعد...اللہ تعالی نے ان سے”ارض مقدس“ کا وعدہ فرمایا...مگر
شرط وہی کہ...جو اسباب عطاء فرمائے ہیں وہ استعمال کرو...تم ”ارض مقدس“ پر قابض
”جابروں“ پر حملہ کر دو...ہمارا وعدہ ہے کہ فتح ہم دیں گے...مگر ”بنی اسرائیل“ نے
جب دشمنوں کی طاقت دیکھی تو وہ ”توکل“ نہ کر سکے...یعنی اللہ تعالی کے وعدے پر یقین
نہ کر سکے اور حملہ کرنے سے انکار کر دیا...یہاں انہوں نے ”تعطُّل“ کو اختیار کیا
کہ...حملہ کرنے کے اسباب تو ان کے پاس موجود تھے...ہاتھ پاؤں جسم سلامت تھے....مگر
انہوں نے برے نتیجے کے خوف سے ان اسباب کو ”معطل“ رکھا اور استعمال نہ کیا....تب
انہیں سزا ملی کہ چالیس سال تک ایک وادی ”تیہ“ میں بھٹکتے رہے...وہیں حضرت موسی علیہ
الصلوٰۃ والسلام بھی وفات پا گئے...بنی اسرائیل کے اچھے لوگ ان چالیس سالوں میں
دعوت جہاد چلاتے رہے...بالآخر ایک طبقہ”توکل“ والا پیدا ہو گیا...انہوں نے حضرت یوشع
علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قیادت میں حملہ کیا....جہاد کیا...تب اللہ تعالی نے اپنا
وعدہ پورا فرمایا اور انہیں فتح عطاء فرما دی...
گزارش
ہے کہ....گزشتہ دو مکتوبات دوبارہ دیکھ کر...آج کا مکتوب پڑھیں تاکہ....
”تَوَكَّلُـوْۤا“والی
دونوں آیات کا مفہوم واضح ہو جائے...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله