بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
عبادت
کو سمجھیں
السلام
علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ
تعالی نے ہمیں اپنی ”عبادت“ کے لئے پیدا فرمایا ہے...بہت ضروری ہے کہ ہم ”عبادت“
کے معنیٰ اور مفہوم کو سمجھیں...کل کے مکتوب میں آیت مبارکہ آئی تھی:-
”فَاعْبُدْهُ
وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ“ (ھود ۱۲۳)
ترجمہ
(اے محبوب نبی) آپ اللہ تعالی کی ”عبادت“ کریں اور اسی پر ”توکل“ (یعنی اعتماد اور
بھروسہ) کریں.....
”عبادت“
عربی لغت میں عاجزی اختیار کرنے کو کہتے ہیں...یعنی کسی اور کے سامنے اُسکی بڑائی
اور عظمت کے اعتراف میں...خود کو جھکانا، گرانا، چھوٹا بنانا اور تذلّل اختیار
کرنا.....اسلامی شریعت میں عبادت کا مطلب ہے...
(۱) اللہ تعالی کی اطاعت کرنا
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا....
(۲) اللہ تعالی کی توحید کو
ماننا اور اللہ تعالی کے احکامات کو پورا کرنا...
(۳) عبادت نام ہے ان تمام
اقوال اور اعمال کا جو اللہ تعالی کو پسند ہیں اور اُن سے اللہ تعالی راضی ہوتے ہیں...وہ
اعمال ظاہری ہوں یا باطنی...
خلاصہ
یہ ہوا کہ.....”لا اله الا اللّٰه محمد رسول اللّٰه“ پر ایمان رکھنے کے بعد...وہ
کرنا جس کا اللہ تعالی نے یا آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا
ہے...اور وہ نہ کرنا جس کے نہ کرنے کا حکم فرمایا ہے... یہ ”عبادت“ ہے...معلوم ہوا
کہ ”عبادت“ کا مفہوم اور دائرہ بہت وسیع ہے...اور اس کے مطابق کوئی مسلمان آسانی
سے روزانہ پورے چوبیس گھنٹے بھی عبادت کر سکتا ہے...
آپ
اپنے ہر کام کو...اللہ تعالی اور اس کے رسول کے حکم اور طریقے کے مطابق کرتے جائیں...وہ
کام عبادت بن جائے گا...اور اس سے آپ کو اللہ تعالی کا قُرب ملے گا...پھر عبادت میں
کچھ فرائض ہیں...کچھ واجبات ہیں...اور کچھ سنن اور نوافل ہیں...
فرائض
اور واجبات کا مکمل اہتمام...فرض اور واجب ہے...اس میں سستی اور غفلت بہت خطرناک
ہے...اور ایمان کے لئے بھی سخت نقصان دہ ہے....اس لئے ہر مسلمان پہلی فکر اور کوشش
یہ کرے کہ...”فرض عبادات“ کو اپنے دل و جان اور جسم اور روح کا ہمیشہ کے لئے حصّہ
بنا لے...اور نوافل وغیرہ میں ایسا مشغول نہ ہو کہ فرائض و واجبات میں کمزوری یا
تھکاوٹ آنے لگے...یاد رکھیں ”عبادت“ میں تین چیزیں لازمی ہیں...(١) محبت...(۲) عاجزی...(۳) خوف...(اس کی تفصیل ان
شاءاللہ اگلے مکتوب میں)
(گزارش)
بات تو ”توکل“ پر چل رہی تھی مگر اسی کے ساتھ ”عبادت“ کا تذکرہ آگیا تو کچھ وضاحت
ضروری محسوس ہوئی...کیونکہ ”عبادت“ ہی ہماری زندگی کا مقصد ہے...اور ہماری یہ جہادی
محنت...دعوتی محنت...اور یہ مہم...سب اللہ تعالی کی ”عبادت“ کے لئے ہیں...اور
عبادت میں ترقی ”توکل“ سے ملتی ہے...اور ”توکل“ خود ایک بہت بڑی عبادت ہے...قلبی
عبادت، باطنی عبادت...
اس
لئے ایک دو مکتوبات میں ”عبادت“ اور ”توکل“ پر بات ہوگی ان شاءاللہ...اور پھر
”توکل“ کے موضوع کو مکمل کرنے کی کوشش ہوگی ان شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله