بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

معمولات میں مضبوطی کا طریقہ

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کی فرمانبرداری کرنا ”عبادت“ ہے...رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ”فرمانبرداری“ بھی اللہ تعالی کی ”فرمانبرداری“ ہے...اللہ تعالی کے ہر حکم کو جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر پورا کرنا ”عبادت“ ہے...مگر ”عبادت“ کوئی بوجھ، کوئی ٹیکس یا کوئی زبردستی والی مشقت نہیں ہے...اللہ تعالی اپنے بندے سے محبت فرماتے ہیں...اسی ”محبت“ کے اظہار کے لئے اُسے ”کامیابی“ والے طریقے بتاتے ہیں...تو اب وفادار بندے کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے خالق و مالک و رازق کی محبت کو محسوس کرے...اور اس سے قریب ہونے کی خواہش رکھے...اس لئے اصل ”عبادت“ وہ ہوتی ہے جسمیں محبت ہو...جو کچھ بوجھ سمجھ کر کیا جائے وہ تو بس بوجھ ہی رہتا ہے...اللہ تعالی عظیم ہیں، اکبر ہیں تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ بندے کی عبادت میں عاجزی ہو...ہر بندے نے اللہ تعالی کے سامنے پیش ہونا ہے اور حساب دینا ہے...اور ہماری ہر چیز اللہ تعالی کے قبضے میں ہے تو اس لئے ”عبادت“ میں کسی قدر خشوع اور خوف بھی ہو...

ویسے ہر ”عبادت“ کی ”قبولیت“ کے لئے دو شرطیں ہیں...

(۱) عبادت ”اخلاص“ کے ساتھ ہو...یعنی خالص اللہ تعالی کی رضا کے لئے ہو اور اس میں شرک یا ریاکاری اور دکھلاوا نہ ہو...

(۲) عبادت ”شریعت“ کے طریقے پر ہو احکام شرع کے مطابق ہو.......

یہ دو شرطیں تو لازمی ہیں...باقی اوپر جو تین چیزیں عرض کی ہیں وہ ”عبادت“ کو حقیقی عبادت بناتی ہیں...

(۱) محبت...

(۲) عاجزی...

(۳) خشوع، خوف یا خشیت...

آج معمولات اور نفل عبادت کے بارے میں ایک اہم نکتہ سمجھ لیں...بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم فلاں معمول...یا فلاں عبادت اس لئے شروع نہیں کر رہے کہ پھر اس پر پابندی مشکل ہوگی...مثلاً بارہ سو بار کلمہ طیبہ کا ورد...یا تہجد کی نماز...ایسے لوگوں سے سؤال یہ ہے کہ آپ کو کس نے کہا ہے کہ...ان چیزوں کی پابندی ضروری ہے؟...یہ چیزیں تو نفل عبادت ہیں...اور نفل عبادت محبت کے جذبے سے ہوتی ہے...آپ کو آج وقت مل گیا آپ دل لگا کر کلمہ طیبہ پڑھیں...کل کی فکر میں آج کیوں محروم ہو رہے ہیں...کل ٹائم نہ ملا تو نہ پڑھئے گا...کوئی گناہ نہیں ہوگا...آج رات تہجد مل رہی ہے مزے کیجئے... خصوصی مناجات کا فیض حاصل کیجئے...کل نہ اٹھ سکے تو اس سے آپ کی پچھلی تہجد ضائع نہیں ہوگی...یہ دراصل شیطان کا دھوکہ ہوتا ہے وہ ہمیشہ آگے کی باتوں سے ڈرا کر ہمارا ”آج“ خراب کرتا ہے...ورنہ معمولات اور عبادات ایسی نعمتیں ہیں کہ...ان کو شروع کرنے سے یہ نعمتیں مستقل اور ہمیشہ ملنا شروع ہو جاتی ہیں...آپ مغرب کے بعد نوافل پڑھیں...عشاء کے بعد آپ کو خود نوافل کی توفیق مل جائے گی...ایک نیکی دوسری نیکی کو کھینچتی ہے...حقیقت یہی ہے کہ آپ...عبادت میں جس قدر اضافہ کرتے جائیں گے... آپ کے اوقات، آپ کی ہمت اور آپ کی توفیق اسیقدر بڑھتی جائے گی...لیکن پھر بھی ذہن میں یہی رکھیں کہ نفل، نفل ہوتا ہے...فرض نہیں بنتا...جب موقع ملے ڈٹ کر معمولات کریں...جب نہ ملے پریشان نہ ہوں اور نہ بوجھ بنا کر کریں...جب ہو جائیں شکر ادا کیا کریں...جب رہ جائیں تو آہیں نہ بھرتے پھرا کریں...ہاں فرض چھوٹ جائے تو بے شک چیخیں ماریں...مگر معمولات اور نفل کے میدان کو...

بس ”میدان محبت“ ہی رہنے دیں...انہیں مشقت والے رسّے نہ بنائیں...اللہ تعالی پر ”توکل“ اور یقین رکھیں کہ وہ...توفیق عطاء فرمائیں گے...یہ یقین یعنی توکل جتنا پکا اور سچا ہوتا جائے گا... آپ کی عبادت، آپ کے ذکر اور آپ کے معمولات میں مزید نکھار آتا جائے گا...مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!.....

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله