بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

فَتَوَكَّلُوْۤا....اللہ تعالی پر بھروسہ اور اعتماد کرو

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کا فضل، احسان اور شکر کہ...”مبارک مہم“ چل رہی ہے...پرانے احباب بھرپور محنت کر رہے ہیں...نئے”رفقا“ جڑ رہے ہیں...اس مہم کی دعاء یہ ہے:-

بِسْمِ اللّٰهِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰهِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰهِ........وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا.......

اس مہم کی قبولیت کی نشانی...ان شاءاللہ...یہ ہے کہ...اللہ تعالی نے ہم سب کو ”توکل“ سمجھنے، سمجھانے پر لگا دیا ہے...وہ ”توکل“ جو اللہ تعالی کے ساتھ انتہائی محبت کا نام ہے...وہ”توکل“ جو اللہ تعالی پر سچے اعتماد والا خفیہ تعلق ہے...اگر ہمیں یہ عظیم نعمت مل گئی تو پھر مزے ہی مزے...لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ...

قرآن مجید میں ”توکل“ کا موضوع کافی وسیع ہے...مختصر سے مکتوب میں اس موضوع کا خلاصہ تھوڑا مشکل لگ رہا ہے...مگر اللہ تعالی پر توکل کرتے ہوئے آج سے شروع کر رہے ہیں...اللہ تعالی آسان فرمائیں...قبول فرمائیں...ہم اس میں صرف یہ کریں گے کہ ”توکل“ والی آیت کا ترجمہ لکھیں گے...ساتھ یہ عرض کریں گے کہ اس میں کون سا ”مقام توکل“ بیان ہوا ہے...اور اس میں ”توکل“ کی کیا شان یا فضیلت بیان ہوئی ہے....دراصل قرآن مجید ہمیں وہ مقامات و حالات بتاتا ہے جن میں ہمیں توکل کرنا چاہیے...اور ساتھ ساتھ ”توکل“ کے فائدے بھی بیان فرماتا ہے...

آیات کی ترتیب یہ ہوگی کہ ہم ایک ایک صیغے کی ساری آیات کو ایک ساتھ بیان کریں گے...چلیں شروع کرتے ہیں.....

تَوَكَّلُوْۤا = تم سب ”توکل“ کرو...صیغہ جمع حاضر امر.....یہ قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے.....(۱) قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (المائدہ ۲۳)

ترجمہ! اللہ تعالی سے ڈرنے والوں میں سے دو مردوں نے کہا...جن پر اللہ تعالی کا فضل تھا کہ ان (دشمنوں) پر حملہ کر کے دروازہ میں گھس جاؤ...پھر جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو تم ہی غالب ہو گے اور اللہ تعالی پر ”توکل“ (بھروسہ) کرو اگر تم ایمان والے ہو........

”مقام توکل“ اس میں جہاد اور حصول آزادی ہے کہ...حقیقی آزادی جہاد سے ملتی ہے اور جہاد کے لئے اللہ تعالی پر ”توکل“ ضروری ہے......”شان توکل “ اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ....”توکل“ ایمان کی علامت ہے...اور یہ کامل ایمان کے لیے ضروری ھے.......اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ......

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله