بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

عالی شان اعزاز

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی پر سب سے زیادہ...اور سب سے مضبوط ”توکل“...حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا...آپ قیامت تک کے زمانے کا بوجھ اپنے کندھوں پر اکیلے اٹھا کر...”غارحرا“ سے تشریف لائے...صرف اللہ تعالی کے بھروسے پر...آپ نے اپنے خاندان، تمام قریش اور اہل مکہ کے سامنے کھل کر ان کے بتوں کی مذمت فرمائی اور توحید کی دعوت دی...صرف اللہ تعالی پر ”توکل“ فرماتے ہوئے...اور ایک سو جنگجو ننگی تلواریں لے کر آپ کے گھر کے باہر کھڑے تھے...آپ اللہ تعالی پر ”توکل“ کرتے ہوئے بے خوف ان کے درمیان سے گزر گئے...آپ نے ”غار ثور“ میں دشمنوں کو غار کے منہ پر دیکھ لیا مگر آپ کا ”یقین“ اور ”توکل“ ایک لمحے کے لئے کمزور نہ ہوا اور آپ نے اطمینان سے فرمایا:-

”لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا“

ابوبکر! پریشان نہ ہوں...اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہیں...اور پھر اس خوفناک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند بھی فرمالی...وہ قصہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ ایک بار آپ ایک درخت کے نیچے آرام فرما تھے...ایک دشمن وہاں پہنچ گیا اس نے آپ کی تلوار اٹھا لی اور جگا کر کہنے لگا...اب کون آپ کو بچائے گا...آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت اطمینان سے فرمایا......اللہ...نہ کوئی خوف نہ کوئی خدشہ نہ کوئی دھشت...سخت جنگوں کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس اطمینان سے لڑتے اور آگے بڑھتے کہ بہادر ترین صحابہ بھی آپ کی اوٹ لیتے تھے...بارہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک لقمہ اور کھجور کا ایک دانہ تک نہیں ہوتا تھا جبکہ...گیارہ گھروں کی ذمہ داری آپ پر تھی...مجال ہے کوئی فکر یا پریشانی ہوئی ہو اور آپ نے صحابہ کرام کا اجلاس بلا کر اپنی معیشت اور خرچے کا مسئلہ اٹھایا ہو...آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسقدر عالی شان ”توکل“ کے باوجود قرآن مجید میں نو جگہ...اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ...آپ اللہ تعالی پر ”توکل“ کیجئے...اس سے معلوم ہوا کہ ”توکل“ بہت عالی شان مقام ہے... اور اسمیں جسقدر کوئی ترقی کرنا چاہے کر سکتا ہے...”توکل“ وہ نہیں جو ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے کہ...بھائی ہاتھ میں کچھ نہیں بس مجبوری ہے ”توکل“ کرو...ایسا بالکل نہیں...بلکہ ”توکل“ تو اللہ تعالی کی طاقت کو اپنے ساتھ لینے کا طریقہ ہے...چونکہ یہ بہت عالی شان اعزاز اور مقام ہے تو...اپنے محبوب نبی کو بار بار اس کی تلقین فرمائی جا رہی ہے...اور اس سے مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو مزید اونچا کرنا...اور بڑھانا ہے...صیغہ ”تَوَکَّلْ“ کی اگلی آیت سورہ النمل میں ہے...

”فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ“ (النمل ٧٩)

(...ترجمہ اور مختصر تشریح اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ...)

 گزارش رمضان المبارک قیمتی بنانے کے لئے ”شھر رمضان“ کتاب اپنے مطالعہ میں لے لیں...اور رمضان المبارک کے فضائل کو دل کے یقین کے ساتھ قبول کریں...پھر اعمال آسان ہو جائیں گے ان شاءاللہ...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله