بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مشکل
اور اندھیرے حالات میں
السلام
علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ
تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
فَتَوَکَّلْ
عَلَی اللّٰہِ اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ
(النمل ٧٩)
ترجمہ
”پس (اے محبوب نبی) آپ اللہ تعالی پر توکل (بھروسہ) کریں بے شک آپ واضح حق پر ہیں“..
اس
آیت مبارکہ سے پہلے کی آیات پڑھیں...معلوم ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس درد،
کڑھن، تکلیف اور مشکل میں...دین کا کام فرما رہے تھے..ایک طرف یہ غم اور دکھ تھا
کہ لوگ ایمان قبول نہیں کررہے...اکثر لوگ دعوت کو ٹھکرا چکے تھے...اور معاشرے کے
طاقتور لوگ دشمنی پر اتر آئے تھے...اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہر وقت
طرح طرح کی سازشیں کررہے تھے..کئی لوگ پوچھتے تھے کہ اللہ تعالی کے وعدے کب پورے
ہوں گے ؟..فی الحال تو دور دور تک ان کے پورا ہونے کا کوئی نشان نظر نہیں
آرہا...اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے امید تھی کہ وہ اس دعوت پر لبیک کہیں
گے...مگر وہاں سے بھی کوئی مثبت بات سامنے نہ آئی...ایسے حالات میں جب اندھیرا ہی
اندھیرا تھا...انکار ہی انکار تھا...تنہائی ہی تنہائی تھی...بس چند افراد نے دعوت
قبول کی...اور یہ تھوڑے سے افراد بھی طرح طرح کے مظالم کا شکار تھے...تب عرش سے
آواز آئی.......فَتَوَکَّلۡ عَلَی
اللّٰہِ....اے محبوب آپ اللہ تعالی پر یقین، اعتماد اور بھروسہ رکھیں...بے شک آپ
بالکل صریح اور واضح حق پر ہیں...مشکل حالات میں یہی دو فکریں ہوتی ہیں...کیا ہم
واقعی حق پر ہیں؟ کیونکہ ہر طرف مخالفت ہی مخالفت نظر آتی ہے...اور دوسری فکر یہ
کہ......یہ سارے مسائل کیسے حل ہوں گے......
فرمایا...آپ
اللہ تعالی پر یقین رکھیں...سارے مسائل وہ حل فرمائیں گے...اور مخالفت سے غمگین نہ
ہوں آپ بے شک حق پر ہیں...کیا یہود اور کیا نصاریٰ...کیا مخالفین اور کیا دشمن...یہ
سب یا ختم ہو جائیں گے یا دب جائیں گے...آپ اپنا کام کریں...قبول نہ کرنے والوں کا
گناہ آپ کے سر نہیں...اور ان کی سازشیں آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی...
اس
آیت مبارکہ میں.....”مقام توکل“ یہ ہے کہ مایوس کن حالات میں اللہ تعالی پر ”توکل“
کیا جائے...اور ”شان توکل“ یہ ہے کہ ”توکل“ اہل حق کی نشانی...اور اہل حق کا ”وظیفہ“
ہے...
گزارش آپ سب کو ”رمضان المبارک“ کی قلبی
مبارکباد.....اللہ تعالی پر ”توکل“ کرتے ہوئے اپنی عبادت اور اپنی محنت بڑھا دیں...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله