بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
عِزَّت
والے کام میں شرمانا
السلام
علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ
تعالی ہمیں ”تکبیر“ بلند کرنے والا بنائے.....
...اللہ
اکبر کبیرا...
اللہ
تعالی معاف فرمائیں...ماحول کسقدر بدل گیا...ذی الحجہ کا چاند نظر آتا تھا تو مسلمانوں
کے ہر گھر سے تکبیر کی آواز بلند ہوتی تھی...لوگ راستوں میں، گلیوں میں اور
بازاروں میں بلند آواز سے تکبیر کہتے تھے...مساجد میں خاص طور سے تکبیر کی آواز
گونجتی تھی.....بخاری شریف میں ہے کہ...حضرت سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بازار تشریف لے جاتے اور ”تکبیر“ کہتے تو
بازار والے بھی ان کے ساتھ تکبیر بلند کرنے لگتے....
مگر
اب مسلمانوں کو ”تکبیر“ کہتے ہوئے شرم آتی ہے...استغفر اللہ، استغفر اللہ، استغفر
اللہ...تکبیر کی برکت سے مسلمانوں کو بلندی ملتی تھی...وہ اللہ تعالی کا ذکر
دیوانوں کی طرح کرتے تھے...اور وہ ”تکبیر“ کے ایسے ماہر ہو چکے تھے کہ جب میدان
جہاد میں جاکر تکبیر یعنی ”اللہ اکبر“ کہتے تو دشمن پر خوف، رعب اور رعشہ طاری ہو
جاتا...آپ حدیث شریف کی کتابیں دیکھیں...فقہاء کرام کی تشریحات دیکھیں...عشرہ ذی
الحجہ میں تکبیرات کی بہت تاکید ملے گی...اور یہ سنت مسلمانوں میں جاری بھی
رہی...شاید استعماری قبضے کے بعد مسلمانوں کے مزاج میں غلامی آگئی کہ....گناہ سے
نہیں شرماتے...مگر اپنے رب کا نام بلند کرنے سے شرماتے ہیں...عشرہ ذی الحجہ میں
”تکبیر“ کہنے کے کئی صیغے صحابہ کرام سے ثابت ہیں...آپ کوئی بھی ”صیغہ“ اختیار کر
لیں...یا سب صیغوں سے برکت حاصل کریں...چند صیغے یہ ہیں...
(1)
اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ کبیراً...
(2)
اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ
أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ.....
(3)
اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا
اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ.....
(4)
اَللّٰهُ أَكْبَرُ کبیرا، اَللّٰهُ أَكْبَرُ کبیرا، اَللّٰهُ أَكْبَرُ و اَجَلُّ،
اَللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله