بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
اَللّٰھُمَّ اھْدِنَا وَاھْدِبِنَا
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ
تعالی ہمیں ”ہدایت“ نصیب فرمائیں...اور ہمیں انسانوں اور جنات کی ”ہدایت“ کا ذریعہ
بنائیں.......حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء مبارک ہے
اَللّٰھُمَّ
اھْدِنَا وَاھْدِبِنَا (مصنف عبد الرزاق)
ترجمہ:
”یا اللہ ہمیں ہدایت دیجئے..اور ہمارے ذریعہ سے دوسروں کو بھی ہدایت دیجئے“
بخاری
اور مسلم کی روایت ہے کہ.....”غزوہ خیبر“ کے دن حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا:
”فَوَاللّٰہِ
لَأَنْ یُّھْدٰی بِکَ رَجُلٌ وَاحِدٌ خَیْرٌلَّکَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ“ (بخاری
مسلم)
ترجمہ:
اللہ تعالی کی قسم اگر آپ کی وجہ سے ایک شخص بھی ہدایت پا گیا....یعنی مسلمان
ہوگیا تو یہ آپ کے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے....
جبکہ
ایک روایت میں ہے کہ....
....یہ
آپ کے لئے دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے....
یعنی
اگر آپ کے جہاد...اور اس میں آپ کی ”دعوت ایمان“ کی برکت سے ایک کافر بھی مسلمان
ہوگیا تو یہ......آپ کے لئے بڑی عظیم الشان نعمت ہے....دنیا کے اعتبار سے
بھی...اور آخرت کے اعتبار سے بھی...کیونکہ اس ایک عمل میں لاکھوں، کروڑوں اعمال
پوشیدہ ہیں...جو ایمان لائے گا خود اس کے اعمال...پھر اس کی نسل کے ایمان اور
اعمال...اور پھر اس کی وجہ سے ایمان لانے والوں کے ایمان اور اعمال...اور معلوم
نہیں کیا کیا.......یعنی ایک شخص کو ایمان پر لانا...یہ صرف ایک عمل نہیں ہے
بلکہ...بے شمار اعمال کا ذخیرہ ہے......اللہ تعالی ہماری قسمت بھی اس بارے کھول
دیں....آمین...اس حدیث شریف کی باقی تشریح اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ....مغرب سے
جمعہ شریف اور مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله