بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
انعامات
کی بارش
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ
تعالی راضی اور خوش ہوتے ہیں....حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم راضی اور خوش ہوتے
ہیں....اس مسلمان سے....جو دوسروں کے اسلام قبول کرنے کا ذریعہ بنتا ہے......
”سنن
ابی داؤد“ کی روایت ہے...خلاصہ اس کا یہ ہے کہ...حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
ایک جہادی دستہ روانہ فرمایا.....جب یہ ”مجاہدین کرام“ لڑائی کے مقام پر پہنچے تو
ایک صحابی حضرت سیدنا حارث بن مسلم رضی اللہ عنہ نے اپنے گھوڑے کو ”ایڑ“
لگائی...اور اسے تیز دوڑاتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گئے.....اور کفار کے
قریب پہنچ گئے...اور انہیں کلمے کی دعوت دی...انہوں نے دعوت قبول کر لی اور مسلمان
ہو گئے...اسلامی لشکر جب وہاں پہنچا تو آگے کوئی دشمن ہی موجود نہ تھا....سارے
مسلمان تھے... چونکہ شرعی طور پر یہاں ”دعوت“ فرض نہیں تھی...اس لئے لشکر کے بعض
مجاہدین نے حضرت حارث کے عمل کو پسند نہیں کیا...خیر لشکر واپس آگیا...پورا قصہ
حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا...آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت
حارث بن مسلم رضی اللہ عنہ سے بہت خوش ہوئے ان کو اپنے پاس بلوایا...ان کے عمل کی
تحسین فرمائی...اور فرمایا!
”
اللہ تعالی نے آپ کے لئے ان میں سے ہر انسان کے بدلے اتنا اتنا ثواب لکھ دیا ہے“
پھر
صرف اتنا نہیں...بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اپنے بعد کسی اعلیٰ منصب
کی تحریری وصیت لکھوائی...اس پر خود ”مہر مبارک“ ثبت فرمائی..اور وہ ان کے حوالے
فرما دی......(سنن ابی داؤد)
ماشاءاللہ
چند افراد کو ”مسلمان“ کیا...اور انعامات کی یہ بارش...
ہم
بھی تو......حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی ”شفاعت“ اور ”محبت“ کے
محتاج ہیں....ہم بھی اپنے دل میں.....حضرت سیدنا حارث رضی اللہ عنہ والا جذبہ بھر
کر.....سواریاں تیز دوڑا دیں....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله