بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

نو مسلموں کا مقام

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی جسے چاہتے ہیں ”ہدایت“ عطاء فرماتے ہیں.....

 ”یا ھادی انت الھادی لیس الھادی الا اللہ “

ہم نہ کسی کو ”ہدایت“ دے سکتے ہیں نہ ”ایمان“... ہم تو خود اپنے لئے ایمان اور ہدایت مانگتے ہیں...

 ” اهدنا الصراط المستقيم “

البتہ ”ایمان“ اور ”ہدایت“ کی دعوت ہمارے ذمہ لازمی ہے..کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں..اور ہم آخری امت ہیں..ہماری دعوت سے اگر کوئی ”ایمان“ پر آگیا تو پھر ہمارے نصیب دنیا اور آخرت میں کھل جائیں گے ان شاءاللہ...

پھر کفر سے نکل کر جو لوگ..سچے دل سے ”ایمان“ قبول کرتے ہیں...وہ بڑے خاص لوگ ہوتے ہیں...ہر گناہ سے پاک...روحانیت اور نور سے معمور...اور صاحب کرامت...

صحیح مسلم کی روایت ہے کہ...آخری زمانے میں...بنی اسحاق یعنی (نو مسلموں) کا ایک لشکر قسطنطنیہ پر حملہ کرے گا...یہ ستر ہزار نو مسلم مجاہدین ہوں گے...اس لشکر کا ایسا رعب، جلال اور دبدبہ ہوگا کہ وہ جب....شہر کے قریب پہنچ کر نعرہ لگائے گا:-

 ” لا الہ الا اللہ.... اللہ اکبر “

تو اس نعرے کے رعب اور دھمک سے...فوجی عمارتیں گر جائیں گی..اور دشمن کا لشکر خوف سے ہتھیار ڈال دے گا......حالانکہ اس وقت یہ شہر...کفر کی طاقت کا مرکز ہوگا..مگر ان مجاہدین کے ”تین نعروں“ سے اس شہر کی زبردست عسکری طاقت منٹوں میں زمین بوس ہو جائے گی.....پوری روایت مسلم شریف میں پڑھ لیں..”نو مسلم“ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں...اور قربانی دے کر...شعوری طور پر مسلمان ہوتے ہیں تو...ان کی روحانی، جہادی طاقت بہت زیادہ ہوتی ہے...اس پر ایک اور حدیث شریف.....اور اپنے ایک استاد محترم کا واقعہ یاد آگیا ہے...وہ اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ...مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله