بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
پیارے
شہداء کرام
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ
تعالی نے ہمیں کتنا ”اچھا“ دین دیا ہے...کتنا پیارا، کتنا میٹھا، کتنا آسان، کتنا
پرسکون اور کتنا عظیم الشان دین......دین اسلام...
”و
الحمدللہ رب العالمین “
حضرت
آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تک کتنی ”محبت“ سے یہ دین پہنچایا..کتنی
محنت، کتنی قربانی..کتنا اہتمام اور کتنی فکرمندی سے..آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ
عظیم نعمت پہنچائی...
”و
الحمدللہ رب العالمین “
”دین
اسلام“ کی ہر بات اونچی..ہر بات میٹھی...اور ہر بات پکی اور سچی..صرف شہداء کرام
کے مقام کو ہی دیکھ لیں..شہداء کرام کو یہ مقام ”دین اسلام“ کی برکت سے ملا..”دین
اسلام“پر قربان ہونے کی برکت سے ملا..اتنا اونچا مقام..اتنا اونچا، اتنا اونچا کہ
سمجھانے کے لئے سر اٹھائیں تو ٹوپی گر جائے..یہ اپنی بنائی ہوئی بات..یا ”مبالغہ“
نہیں.. حدیث شریف میں اسیطرح آیا ہے..محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح
سمجھایا اور بتایا ہے..واہ شہادت واہ..یا اللہ نصیب فرما..کئی خوش نصیب ادھر ایمان
لائے اور ادھر شہادت کی آغوش میں جا بیٹھے..فرمایا گیا واہ! تھوڑی دیر کا عمل..اور
اتنا بڑا اجر...
یہ
شہداء کشمیر کو دیکھ لیں..اللہ تعالی کے شیر..غزوہ ہند کی مست خوشبو سے مہکتے..بے
فکر..پرسکون....اتنی بڑی مشرک فوج کی چیخیں نکلوانے والے...اس زمانے کے سچے پکے
اولیاء کرام..لفظوں کی مکھی ماری سے دور..جدل وجدال کی نحوست سے پاک..قتل و قتال
کے شہسوار...والدین کی آنکھوں کے....دنیا و آخرت میں تارے...حرص و لالچ اور محتاجی
سے آزاد...اسلام کی عزت و غیرت کے استعارے..دین کے تسلسل کی حجت..اندھیری دنیا کے
روشن چراغ..اپنے لہو سے اپنے ایمان کی گواہی دینے والے....ان ”پیاروں“ کو
سلام...ان کے ”والدین“ کو سلام...یقین جانیں ان ”والدین“ سے ”تعزیت“ پر دل آمادہ
نہیں ہوتا..ہاں یہ ضرور چاہتا ہے کہ ان کے پاؤں کی مٹی لے کر.....”عطر معطر“ کی
طرح اپنے چہرے پر مل لوں...اللہ تعالی آپ کے دلوں کو خوشی، سرور اور سرمستی عطاء
فرمائے..آپ نے واقعی ”بیٹے“ جنے ہیں...
کل
کے مکتوب میں ایک حدیث شریف..اور ایک واقعہ لکھنے کا وعدہ تھا..معاف فرمائیں..آج
شہداء کرام مسکرائے ہیں...وعدہ کل پورا ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله