<مکتوب خادم>

یااللہ سینے کھول دے

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی ہمیں ”دین“ کا ”درد“ عطاء فرمائیں...تھوڑا سا ”طائف“ کا منظر یاد کریں.....آہ! طائف کا سفر..اسمیں کس کا خون گرا؟ آہ! طائف کا سفر..حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم زخموں سے چور ہو کر بے ہوش ہو گئے...حضرت سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کندھوں پر اٹھایا.....

جو لگتا ہے کوئی کنکر بدن پر دین کی خاطر

تو دل کو وادئ طائف کے پتھر یاد آتے ہیں

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی درد بھری دعوت کہ....طائف والو! ایمان لے آؤ......”لا الہ الا اللہ“ کا اقرار کر لو......”محمد رسول اللہ“ کا اقرار کر لو....کامیاب ہو جاؤ گے...جواب میں مشرک سرداروں کی گالیاں.....لمبی زبانیں...اور تکبر......اور پھر آوارہ، اوباش لڑکوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلسل پتھراؤ....اسمیں ایک دلخراش منظر جو ہمیشہ دل کو رلاتا ہے...اور ”دعوت ایمان“ پر سینہ کھولتا ہے...وہ یہ کہ...پتھروں کی بارش، بدمعاشوں کی گالیاں اور تالیاں..اور جسم اطہر و اقدس سے بہنے والے خون کی وجہ سے..آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بیٹھ جاتے تو وہ ظالم شیطان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بازو مبارک پکڑ کر آپ کو دوبارہ کھڑا کر دیتے اور دوڑنے پر مجبور کرتے...آقا صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر بے شمار سلام ہمیں معاف فرما دیں..ہم دین اور دعوت کے درد سے کتنے محروم ہیں...آپ نے کتنی تکلیفیں اٹھا کر ہم تک یہ دین اور کلمہ پہنچایا.....کبھی طائف اور کبھی اُحد...یا اللہ دل کھول دے...سینے کھول دے...قسمت کھول دے.....ہمیں ”جہاد“ میں بھی کامیابی عطاء فرما...”دعوت ایمان“ میں بھی کامیابی عطاء فرما......

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله