بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

دعوت ایمان..حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا کام

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی چاہیں تو سب ”انسانوں“ کو خود ہی ”ہدایت“ عطاء فرما دیں..لیکن دنیا ایک ”امتحان گاہ“ ہے..اللہ تعالی اپنے محبوب اور خاص الخاص بندوں کو....”دعوت ایمان“ پر لگاتے ہیں..دنیا میں اللہ تعالی کے سب سے خاص، پسندیدہ اور محبوب بندے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہیں...ان سب کو اللہ تعالی نے ”دعوت ایمان“ کے لئے بھیجا..اور ان سے ”دعوت“ کا کام لیا..ایک بات اچھی طرح سمجھ لیں..ایک ”دعوت ایمان“ ہے..اور ایک ”دعوت اصلاح“ ہے..مسلمانوں کو نماز، روزے، جہاد وغیرہ اعمال کی دعوت دینا..یہ ”دعوت اصلاح“ ہے..جبکہ ”کفار“ کو ایمان اور اسلام کی دعوت دینا..یہ ”دعوت ایمان“ ہے..انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ”دعوت ایمان“ کے لئے بھیجے گئے..یہ ان کا اصل کام تھا..اصل ذمہ داری تھی..پھر اس کے بعد ”دعوت اصلاح“ بھی ان کی ”ذمہ داری“ تھی..”تبلیغی جماعت“ نے جب مسلمانوں کی اصلاح کے لئے کام شروع کیا تو اس وقت یہی ”اعتراض“ اٹھا کہ....اسے ”تبلیغی جماعت“ نہ کہا جائے...”اصلاحی جماعت“ کہا جائے..اکابر نے جواب دیا کہ...بانی جماعت نے کوئی نام رکھا ہی نہیں تھا انہوں نے تو بس کام شروع فرما دیا..بعد میں لوگوں نے ”تبلیغی جماعت“ مشہور کر دیا..اور وہی چل پڑا..ورنہ اصل تبلیغ تو یہ ہے کہ ”غیر مسلموں“ کو ایمان کی دعوت دی جائے..یہی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا کام ہے..اسی کے لئے چاروں کتابیں نازل ہوئیں..اور اسی کے لئے اس امت پر ”فریضہ جہاد“ فرض کر دیا گیا..تاکہ دعوت کا کام رکے نہیں..قوت اور تیزی سے پورے عالم میں پھیلے..اس لئے قتال فی سبیل اللہ اور ”دعوت ایمان“ آپسمیں مکمل جڑے ہوئے ہیں..”فتح القدیر“ میں ہے:

”الجہاد دعوۃ الکفار الی الدین الحق و قتالھم ان لم یقبلوا“

” جہاد کا معنی ہے کافروں کو ”دین حق“ کی طرف دعوت دینا اور اگر وہ نہ مانیں تو ان سے قتال کرنا “

مجاہدین فی سبیل اللہ کو.....حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام والی محنت مبارک ہو..دعوت ایمان..اور جہاد فی سبیل اللہ....دونوں میں کوئی سستی نہ آئے..کبھی دونوں اکٹھے..کبھی دونوں الگ الگ...(اسکی تفصیل اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ)

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله