بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مختصر تفسیر

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی کا ”نور“ جسے مل جائے...وہ دین کو سمجھتا ہے..دین پر عمل کرتا ہے..آخرت کی بھرپور تیاری کرتا ہے..اور اپنی زندگی کو..دنیا کی خاطر ضائع نہیں کرتا..

کئی دنوں سے..سورہ الانعام کی آیت (۱۲۲) پر بات چل رہی ہے..اندازہ ہوا کہ ”مکتوب“ میں مکمل تفسیر نہیں  آسکے گی..اس لئے آج تین نکتوں کو عرض کر کے..اس موضوع کو کسی حد تک پورا کرتے ہیں..پہلے یاددہانی کے لئے آیت کریمہ کا ترجمہ ذکر کیا جاتا ہے..

ترجمہ: کیا وہ شخص جو مُردہ تھا..پھر ہم نے اسے زندہ کر دیا..اور اسے نور عطاء فرما دیا..جسے وہ لوگوں کے درمیان لے کر چلتا ہے..(کیا یہ شخص) اس جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں پڑا ہے..ان سے نکل نہیں سکتا..بس اسی طرح کافروں کے لئے ان کے کام پسندیدہ بنا دیئے جاتے ہیں (الانعام ۱۲۲)

(۱) نور سے مُراد..ایمان ہے، ایمان پر استقامت ہے..دین ہے..دین پر قوت ہے..قرآن مجید ہے..شریعت پر عمل کا ذوق ہے..علم ہے..معرفت ہے..قوت فیصلہ ہے..اسلام پر اطمینان ہے..اسلام پر فخر اور خوشی ہے..ایمان پر مضبوطی ہے..ایمان کے لئے دعوت اور جہاد ہے..اور ایمان کا دوام ہے..قرآن مجید میں جہاں جہاں ”نور“ کا لفظ آیا ہے وہ سب پڑھیں تو پھر بات اچھی طرح واضح ہو جائے گی..

(۲) اس آیت مبارکہ میں ”پکے مسلمانوں“ کا ذکر ہے..جو پکے مؤمن ہیں..اور انکی علامت یہ ہے کہ..اُن کے پاس نور ہوتا ہے..یعنی ایمان کی روشنی اور ایمان کی طاقت..اور اس کا پتا تب چلتا ہے جب وہ لوگوں کے درمیان چلتے ہیں..تب ان پر ایمان کا نور نظر آتا ہے..اور وہ لوگوں سے شرما کر..یا لوگوں سے ڈر کر ”ایمان“ سے پیچھے نہیں ہٹتے..نہ وہ کافروں سے متاثر ہوتے ہیں..نہ ماحول سے..نہ شہوتوں سے..بلکہ ایمان...اور اس کے تقاضوں پر ڈٹے رہتے ہیں..اور اپنے نور کو پھیلاتے ہیں..اور کسی کی نقلی روشنی کو اپنے اوپر اثر انداز نہیں ہونے دیتے...

(۳) اور اس آیت مبارکہ میں ”پکے کافروں“ کا ذکر ہے..جو اپنے برے اعمال کی وجہ سے کبھی ”نور“ نہیں پا سکتے..اور اس کی وجہ یہ ہے کہ..انہوں نے کفر کو..اور کفریہ اعمال کو پسند کرنا شروع کر دیا ہے..

اسمیں اشارہ دیا کہ..مسلمان کبھی بھی..گناہوں کو مرغوب نہ بنائیں..مسلمان گنہگار ہو سکتا ہے..مجرم ہو سکتا ہے..مگر وہ کبھی بھی برائیوں، گناہوں اور غفلتوں پر خوش اور مطمئن نہیں ہو سکتا..اگر خدانخواستہ ہونے لگے تو پھر نعوذ باللہ اس پر بھی ہدایت کے دروازے بند ہو سکتے ہیں..

بس اسی پر ”آیت مبارکہ“ کی تقریر مکمل کرتے ہیں..اللہ تعالی ہمیں پکا مؤمن..نور والا مؤمن بنائے..ایمان کی دعوت دینے والا...نور کو ساتھ لے کر پھرنے والا..اور ایمان کی خاطر جہاد کرنے والا..

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله