بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مبلغ
اسلام...مرحبا!
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ
تعالی ہمیں ”عالی مقصد“ اور ”بلند ہمت“ زندگی نصیب فرمائیں..
مبلغ
اسلام، داعی ایمان...محترم ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب..حفظہ اللہ تعالی..کے پاکستان تشریف
لانے پر قلبی خوشی محسوس ہو رہی ہے..والحمدللہ رب العالمین..نہ اُن سے کوئی رابطہ
ہے..نہ ملاقات..مگر ”کلمہ طیبہ“ کے رشتہ سے وہ ہمارے معزز بھائی ہیں..ہم انہیں
مرحبا، خوش آمدید اور ”اہلاً وسھلاً“ کہتے ہیں..وہ اُمت مسلمہ کا قابل فخر سرمایہ
ہیں..اللہ تعالی نے ان کو بے پناہ صلاحیت سے نوازہ ہے..اور ان سے دین کا بڑا کام لیا
ہے..اور وہ کام ہے ”دعوت ایمان“.....یاد رکھیں! انبیاء علیہم الصلوٰۃ
والسلام...اور ملائکۃ اللہ کے علاوہ..کوئی بھی غلطیوں اور گناہوں سے ”معصوم“ نہیں
ہے..ہم حضرات ائمہ اربعہ کا اکرام کرتے ہیں..حضرت امام بخاری رحمہ اللہ تعالی اور
دیگر محدثین کا اکرام کرتے ہیں..حالانکہ کئی مسائل میں اختلاف بھی ہوتا ہے..ڈاکٹر
ذاکر صاحب سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں..جن پر اہل علم انہیں متنبہ کرتے رہتے ہیں...آجکل
اکثر دین دار لوگ فضول بحثوں اور جدل و جدال میں مبتلا ہیں..اور ان مسائل میں زندگیاں
کھپا رہے ہیں..جن کا قبر، حشر اور آخرت میں سؤال تک نہ ہوگا...جبکہ ڈاکٹر ذاکر
صاحب کی خوش نصیبی دیکھیں کہ انہوں نے....”دعوت ایمان“ کو اپنا اصل موضوع بنایا..اور
دشمنان اسلام کے دانت کھٹے کر دیئے..اور لاکھوں افراد کے ”قبول اسلام“ کا ذریعہ
بنے..مرنے کے بعد تو یہی چیزیں کام آئیں گی...اور اس زمانے میں عملی جہاد فی سبیل
اللہ کے بعد ”دعوت ایمان“ سے بڑا اور کوئی کام نہیں..اسی لئے ڈاکٹر صاحب کو انڈیا
میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ہجرت پر مجبور ہوئے..فرماتے ہیں کہ..پندرہ
ممالک نے انہیں شہریت دینے کی پیشکش کی...یعنی ایک سچے ”داعی“ کے لئے دوسو ممالک کی
سرزمین پر صرف پندرہ ملک کھلے ہیں..جبکہ سچے مجاہدین کو..کوئی ایک ملک بھی اپنی
شہریت نہیں دے گا..پناہ البتہ چند ایک دے دیتے ہیں..بے شک دین کے لئے جس نے جتنی
قربانی دی..وہ اللہ تعالی کے ہاں اس کا بدلہ ضرور پائے گا.....
پاکستان
حکومت نے ڈاکٹر صاحب کو دعوت دی..بیس سال میں پہلی بار کسی حکومتی فیصلے سے اسلام،
عزت اور بہادری کی خوشبو آئی...ورنہ ”مشرف“ کے ”نامبارک“ دور سے یہ مُلک..بد امنی،
بزدلی اور محتاجی کی ڈھلوان پر لڑھک رہا ہے..اب ضرورت اس بات کی ہے کہ..ملحد اور
کفر پرست طبقے کے دباؤ میں آکر ”ڈاکٹر صاحب“ کو ”محدود“ نہ کیا جائے..مکمل سیکورٹی
میں ان کے ”فقید المثال“ اجتماعات رکھے جائیں..اسمیں آپ کو اجر و ثواب بھی ملے گا
اور ترقی بھی ان شاءاللہ..آخر ”بے فائدہ“ سیاسی جلسوں اور اجتماعات کو بھی تو سیکورٹی
دی جاتی ہے..بہت افسوس ہو رہا ہے کہ..غیروں اور گیدڑوں کے دباؤ میں آکر...عالم
اسلام کے عظیم داعی سے ملک کی عوام کو محروم رکھا جا رہا ہے...بہادری کر بیٹھے ہو
بابا تو پھر اسے نبھا بھی لو..
تیس
لاکھ افراد کا مجمع بٹھاؤ..اور ڈاکٹر صاحب کو کھڑا دو..جب وہ دنیا کے ہر پادری،
پنڈت، گرو، ملحد کو للکاریں گے اور سچے دین کی دعوت دیں گے تو..ہمارے ملک میں
خوشبو ہی خوشبو پھیل جائے گی...مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله