بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

ماشاءاللہ!

(113) نئے بہن بھائی

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی نے جتنے ”رسول“ اور ”نبی“ دنیا میں بھیجے..اُن سب کا اصل کام ایک ہی تھا..اور وہ عظیم کام تھا ”دعوت ایمان“.....جی ہاں ایمان کی دعوت..”لا الہ الا اللہ“ کی دعوت...

”الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى...وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ“.....

اگر کوئی مسلمان چاہتا ہے کہ

* اس کا ایمان مضبوط ہو..اور اسے ”ایمان“ کی مٹھاس اور حلاوت نصیب ہو..

* اور اسے ایمان اور اسلام کی قدر اور شکر نصیب ہو..

* اور ”دین اسلام“ اور ایمان اس کی اگلی نسلوں میں جاری رہے..

* اور اس کے نامہ اعمال میں کبھی ختم نہ ہونے والی بھاری نیکیاں ہمیشہ لکھی جاتی رہیں...

* اور اس کو ایمان پر خاتمہ نصیب ہو..

تو وہ مسلمان...”دعوت ایمان“ کو اپنا لے..وہ کافروں کو اسلام کی دعوت دے..اور دعوت کے اس کام کو وہ اپنی ذمہ داری اور سعادت سمجھے..اسے ان شاءاللہ یہ ساری نعمتیں اور مزید بھی بہت کچھ حاصل ہو جائے گا....اللہ تعالی کے فضل اور توفیق سے ”جماعت“ نے چند ماہ قبل..شعبہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ قائم کر کے..”دعوت ایمان“ کا باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے..ابھی یہ کام بالکل ابتدائی مراحل میں ہے..مگر اس کے باوجود اللہ تعالی کی رحمت اور نصرت ایسی نصیب ہوئی ہے کہ..صرف گزشتہ تین دنوں میں تین افراد دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں..اللہ تعالی انہیں ”نور ہدایت“ اور استقامت عطاء فرمائیں..اس طرح الحمدللہ ثم الحمدللہ شعبہ قائم ہونے کے بعد اب تک ایک سو تیرہ (113) افراد دین حق.....دین اسلام قبول کر چکے ہیں..

یاد رکھیں! ”دعوت ایمان“ کا کام کمزور ہونے کی وجہ سے امت مسلمہ بہت نقصان اٹھا رہی ہے طرح طرح کے فتنے..طرح طرح کے فرقے اور خود مسلمانوں میں دین کی ناقدری..

ابھی اس وقت بلوچستان میں...ایک ”ریل گاڑی“ پر حملہ کیا گیا..نہتے اور بے قصور مسلمانوں کا خون بہایا گیا..کیوں؟ اس لیے کہ مسلمان اسلام کی نعمت کو نعوذ باللہ چھوٹا سمجھ کر ”قوم پرستی“ کی لعنت میں جا گرے..کون ہے جو درخواست دے کر کسی قوم کا فرد بنا ہے؟..اللہ تعالی نے جس کو جہاں چاہا پیدا فرما دیا..پھر قوم پرستی کے نام پر مسلمانوں کا خون بہانا کیسے جائز ہو گیا....

مسلمانو! دعوت ایمان کی عظمت کو سمجھو..اسلام کی قدر کو پہچانو..

اور روئے زمین کے ایک ایک فرد تک ”دین اسلام“ کی دعوت پہنچا دو...

آج اگر دنیا کے صرف دس یا پانچ فیصد مسلمان بھی...دعوت ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کو اپنا کام بنا لیں تو...صرف چند سال میں..مسلمان دنیا کی سب سے طاقتور اور ترقی یافتہ قوم بن سکتے ہیں..

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله