بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مثالی
ہدیہ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ
تعالی ہمیں سچا پکا.....خالص اپنی رضا والا ”شوق شہادت“ نصیب فرمائیں..امام ابن کثیر
رحمہ اللہ تعالی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ..شہداء کرام کی ”ارواح“ دوسرے ایمان
والوں کی ”ارواح“ کے لیے ایسی ہیں..جیسے زمین والوں کے لیے ستارے....یعنی ”شہداء“
کا مقام بہت بلند ہے..ہم مسلمانوں کا پکا عقیدہ ہےکہ ”قیامت“ ضرور آنی ہے..”قیامت“
کا انکار ”کفر“ ہے..مگر کوئی نہیں جانتا کہ ”قیامت“ کب آئے گی..بہرحال آئے گی
ضرور..اور اس دن حساب کتاب ہوگا..جنت جہنم کے فیصلے ہوں گے..لیکن اللہ تعالی کے
راستے کا شہید....جان دیتے ہی ”جنت“ میں پہنچ جاتا ہے..جنت کا رزق کھاتا ہے..جنت کی
رہائش پاتا ہے..ایسی طاقت اور اختیار اس کو مل جاتا ہے کہ جہاں چاہے اڑتا ہوا جا
سکتا ہے..اور یہ بھی ثابت ہے کہ شہداء آپسمیں ملتے ہیں..ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے
ہیں..اپنے پیچھے رہ جانے والے اپنے ساتھیوں کے مقامات دیکھتے ہیں..اس بارے میں بات
چیت کرتے ہیں..اور چاہتے ہیں کہ وہ بھی آجائیں اور بڑے مقامات پائیں..شہداء کرام میں
غزوہ بدر اور غزوہ احد کے شہداء کا مقام بہت نمایاں ہے..اور ان کا تذکرہ قرآن عظیم
الشان میں موجود ہے..دنیا میں کسی نے نہیں رہنا..کوئی ڈر ڈر کر بچ بچ کر زندگی
گزارے..یا کوئی سینہ تان کر جئے..سب نے چلے جانا ہے..مگر جو ”شہادت“ پا جائے وہ تو
مرتا ہی نہیں..اس کی موت بس اتنی ہے کہ دنیا کے بکھیڑوں اور مصیبتوں سے نکل گیا..اور
شاندار، لذیذ، طاقتور اور بھرپور زندگی میں داخل ہو گیا..اسی لیے اللہ تعالی نے
حکم فرما دیا کہ..شہداء کو ”مردہ“ مت
کہو..اور تاکید فرما دی کہ انہیں مردہ گمان بھی نہ کرو..یاد رکھیں یہ کسی خطیب یا
مصنف کا مبالغہ نہیں..بلکہ عظیم اور سچے رب کا برحق کلام ہے
..وَ
لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ..(البقرہ 154)
..وَ لَا
تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا
فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ
اَمْوَاتًا..(آلعمران 169)
وہ
ایک زندگی سے دوسری زندگی میں داخل ہو چکے ہیں..اور تمہارے کمزور ذہن اس شاندار
طاقتور زندگی کی کیفیت سمجھ ہی نہیں سکتے..
ایصال
ثواب سے ہر مؤمن، ہر شہید کو فائدہ ہوتا ہے..کیونکہ اللہ تعالی کے ہاں درجات اور
نعمتیں بے شمار ہیں..مگر زیادہ فائدہ ایصال ثواب کرنے والوں کو ہوتا ہے..جو اس راز
کو سمجھ لیتے ہیں..وہ اپنی جھولی بھر لیتے ہیں..
دو
دن ایسی مثالی محنت کریں کہ..اس محنت کا اجر و ثواب..اپنے عزیز شہداء کرام..اور
غزہ کے سرفراز شہداء کرام کے شایان شان ”ہدیہ“ بن سکے..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله