بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
اُولِی
الْأیْدِیْ وَ الْأَبْصَارْ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ
تعالی کا فرمان مبارک ہے
وَ
اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ
الْاَبْصَارِ ص(45)
ترجمہ:
اور یاد کرو ہمارے بندوں..ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو..جو ”قوت والے“ اور سمجھ
رکھنے والے تھے.......
فرمایا
گیا کہ....اللہ تعالی کے عظیم پیغمبر....”اُولِی الْأیْدِی“ تھے..یعنی طاقتور، قوی..اور
مضبوط..”اُولِی الْأیْدِی“ کا لفظی معنی ہے..ہاتھوں والے..اور اس کا مطلب
ہے..جسمانی طاقت والے..مضبوط گرفت اور پکڑ والے..اپنے ہاتھوں سے کام کرنے
والے....اس آیت مبارکہ میں تین انبیاء علیہم السلام کا تذکرہ ہے..مگر قوت و طاقت کی
یہ صفت سارے انبیاء علیہم السلام میں مشترک تھی..حضرت سیدنا آدم علیہ الصلٰوۃ
والسلام سے لے کر..حضرت سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک..سارے انبیاء
علیہم الصلوۃ والسلام..اعلی ترین درجے کی ایمانی، قلبی اور جسمانی طاقت رکھتے
تھے..اس پر قرآن مجید سے اتنے دلائل پیش کیے جا سکتے ہیں کہ..ایک پوری کتاب بن
جائے..دراصل اللہ تعالی مؤمن بندوں کو...طاقتور اور قوی دیکھنا پسند فرماتے ہیں..کیونکہ
مؤمن کی طاقت سے دین کو اور حق کو طاقت ملتی ہے..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا
فرمان گرامی ہے:-
”المؤمن
القوی خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف“(صحیح مسلم)
ترجمہ:
طاقتور مؤمن اللہ تعالی کے نزدیک زیادہ بہتر اور محبوب ہے..کمزور مؤمن سے..
پھر
یہ کہ اللہ تعالی نے خود....ایمان والوں کو قوت اور طاقت پانے اور بنانے کا حکم
فرمایا ہے....
”وَ
اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ“(الانفال 60)
چنانچہ...دین
اسلام میں...دین کی خاطر قوت بنانا..قوت پانا اور طاقتور بننے کی کوشش کرنا....ایک
اہم عبادت اور دینی حکم ہے...جماعت الحمدللہ اپنے قیام کے روز اول سے...اس دینی
حکم کو پورا کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے..
الحمدللہ
اب تک لاکھوں افراد...دین کے اہم اور بلند ترین فریضے کی تربیت حاصل کر چکے ہیں..اور
اب کچھ عرصہ سے جماعت میں اس کے لیے مستقل ”شعبہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ“
قائم کر دیا گیا ہے..اس شعبے کے تحت مختصر عرصہ میں ہی..اللہ تعالی کے فضل سے..حیرت
انگیز نتائج سامنے آئے ہیں..مثلاً ایک سو کے قریب ”سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ“ سینٹرز
کا قیام..سو سے زائد افراد کا بلیک بیلٹ ہونا..دو ہزار سے زائد افراد کا تیر اندازی
اور سینکڑوں افراد کا تیراکی سیکھنا..اور صرف تین ماہ کے عرصہ میں تیر اندازی کے
(150) مقابلے....کچھ عرصہ پہلے تک مسلمان...تیر اندازی کی نعمت سے محروم اور دور
تھے..مگر اب...درجنوں افراد...خود تیر کمان اور تیر بنانے کی..الحمدللہ صلاحیت
رکھتے ہیں..اور یوں ایک مٹی ہوئی نورانی سنت..پوری آب و تاب کے ساتھ....اہل ایمان
میں..واپس آرہی ہے..والحمدللہ رب العالمین ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله