بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مِقْدار زکوٰۃِ فِطْر

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی ہمیں....اپنی پکڑ، عذاب اور جہنم سے بچائیں:-

” اَللّٰهُمَّ اَجِرْنا مِنَ النَّار“

اللہ تعالی ہمیں مکمل معافی اور مغفرت نصیب فرمائیں:-

”اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنَّا“

ایک مسئلہ اچھی طرح سمجھ لیں....زکوٰۃ فطر...جسے ”فطرانہ“ صدقہ فطر اور ”سرسایہ“ بھی کہتے ہیں..یہ صاحب استطاعت مسلمانوں پر ”واجب“ ہے..اپنی طرف سے بھی اور اپنے عیال کی طرف سے بھی..اس ”زکوٰۃ فطر“ کے بہت فضائل، مقامات اور درجات ہیں..یہ اہل ایمان کے لیے..اللہ تعالی کی طرف سے ایک انعام ہے کہ..تھوڑا سا مال دے کر وہ پورے رمضان کی کمی و کوتاہی کا ازالہ کر سکتے ہیں..اور بڑی برکتیں پا سکتے ہیں..” زکوٰۃ فطر“ یعنی ”فطرانہ“ کی مقدار کیا ہے؟ آج اسی پر بات کرنی ہے..فطرانہ عمومی طور پر چار چیزوں سے ادا کیا جاتا ہے(۱) جو (۲) کھجور (۳) کشمش(۴) گندم کا آٹا....اگر آپ نے خود یہی اصل چیزیں دینی ہیں تو پھر جو، کھجور اور کشمش ”ایک صاع“ کی مقدار دینی ہوں گی..یعنی آج کل کے حساب سے ساڑھے تین کلو سے چار کلو تک..اور اگر آپ نے گندم کا آٹا دینا ہے تو اس کی مقدار ”آدھا صاع“ ہے..یعنی پونے دو کلو سے دو کلو تک..اور اگر آپ نے ان چیزوں کی قیمت ادا کرنی ہے تو پھر....اسی حساب سے قیمت دیں گے..یعنی جو، کھجور اور کشمش..ساڑھے تین سے چار کلو تک کی قیمت..اور گندم میں پونے دو کلو سے دو کلو آٹے کی قیمت..کیا آپ نے کبھی غور فرمایا کہ..فطرانہ میں کھجور وغیرہ کی مقدار زیادہ ہے..اور گندم کی کم..وجہ دراصل یہ ہے کہ جس زمانے میں یہ مقدار مقرر فرمائی جا رہی تھی..اسوقت گندم نایاب تھی..اور بہت کم اور بہت مہنگی ملتی تھی..جبکہ اس کے مقابلے میں جو، کھجور اور کشمش عام دستیاب تھی اور سستی تھی..چنانچہ گندم کے حساب سے صرف زیادہ مالدار لوگ ہی ”صدقہ فطر“ ادا کر سکتے تھے..باقی لوگ کھجور وغیرہ سے ادا کرتے تھے..مگر بعد میں حالات بدل گئے..اب گندم کی فراوانی ہے..اور گندم کھجور وغیرہ سے بہت سستی ہے..مگر اب ہر کسی نے گندم والے حساب کو ہی پکا پکڑ لیا ہے..اس میں کم استطاعت والوں کے لیے تو خیر ہو گئی..مگر مالدار لوگ بھی گندم کے حساب سے ادا کرتے ہیں..حالانکہ انہیں اپنی استطاعت کے مطابق.... کھجور یا کشمش کے حساب سے ادا کر کے پورا اجر و ثواب حاصل کرنا چاہیے..مالدار لوگ جب سفر کرتے ہیں تو  عام لوگوں سے زیادہ اچھی اور مہنگی کلاس کا ٹکٹ لیتے ہیں..اسیطرح ہر دنیوی معاملے میں زیادہ خرچ کرتے ہیں..مگر جب آخرت کا معاملہ ہو تو پھر....گندم والے فطرانے پر آجاتے ہیں..حالانکہ حق تو یہ ہے کہ....آخرت کے معاملے میں ”وی، آئی، پی“ بننے کی زیادہ محنت کریں..تاکہ اپنے مال کا خود بھی کوئی فائدہ اٹھا سکیں..

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله