بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

سورہ بقرہ والے

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی نے..اپنے ”عظیم عرش“ کے نیچے موجود..ایک خزانے سے سورہ بقرہ کی آخری دو آیات...اُمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمائی ہیں...

ان آیات میں اس قدر...قوت، طاقت اور نور ہے کہ..کوئی باطل ان کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا...

...وَ اعْفُ عَنَّاٙوَ اغْفِرْ لَنَاٙوَ ارْحَمْنَاٙاَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ...

سورہ بقرہ....کا نام ہی اپنے اندر بڑے اشارے لیے ہوئے ہے..

البقرہ گائے، بیل، بچھڑا.....اشارہ ہے کہ..اسلام کے سب سے بڑے دشمن ”یہودی“ ہوں گے.....یہودی ہی گائے اور بچھڑے والی قوم ہے..آج کل بھی وہ کسی بچھڑے کی تلاش میں ہیں..سب سے بڑی ”سورۃ“ میں ”یہودیوں“ سے نمٹنے کے طریقے بتائے گئے تو..دوسرا اشارہ یہ ملا کے ”یہودی“ قرب قیامت تک رہیں گے..جب یہ سورۃ نازل ہو رہی تھی تو.....اللہ تعالی کے سوا ان باتوں کو کون جانتا تھا؟..دیکھ لیں! یہودی اب تک موجود ہیں..اور اسلام کے بڑے دشمن ہیں..مگر ان کے پاس ”سورۃ بقرہ“ نہیں ہے..صرف بقرہ ہے..جبکہ ”سورہ بقرہ“ مسلمانوں کے پاس ہے..جو اس بات کا اعلان ہے کہ...یہودی کچھ بھی بن جائیں..وہ مسلمانوں کا خاتمہ نہیں کر سکتے..ہاں خود یہودیوں کا مکمل خاتمہ.....دجال کی موت کے ساتھ ہو جائے گا تب روئے زمین پر.....ایک یہودی بھی باقی نہیں رہے گا...”سورہ بقرہ“ کا آغاز ہو..یا درمیانی حصہ..یا پھر اس کی آخری آیات..ان میں ایمان والوں کے لیے بڑی قوت، بڑی طاقت اور بڑا غلبہ ہے..یہودیوں کے پاس ان میں سے کچھ بھی نہیں ہے..مسلمانو! نعمت اسلام کا شکر ادا کرو..نعمت قرآن کا شکر ادا کرو..دشمنوں کے اسلحہ اور طاقت سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں ہے..ان کے پاس تو ”آیۃ الکرسی“ تک نہیں..جبکہ مسلمانوں کے پاس پوری سورہ بقرہ ہے..سورہ بقرہ میں جہاد و قتال کا حکم ہے..اور اس حکم پر عمل کرنے والے مسلمان ہر زمانے میں موجود رہتے ہیں..اور سورہ بقرہ کی دو آخری آیات..اس امت کی ”خصوصیت“ ہیں..گزارش ہے کہ....ان آیات کو سمجھیں..اور کوئی دن یا رات ان کی تلاوت سے محروم نہ رہیں..کئی روایات میں ان آیات کو پڑھتے رہنے کی تاکید ہے..

وَ اعْفُ عَنَّاٙوَ اغْفِرْ لَنَاٙوَ ارْحَمْنَاٙاَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ..

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله