بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
دو سے دس ہزار تک کا سفر
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ
تعالی کی رحمت، نصرت اور معافی سے ہر مشکل ”آسان“ ہو جاتی ہے..
...وَ
اعْفُ عَنَّاٙوَ اغْفِرْ لَنَاٙوَ
ارْحَمْنَاٙاَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا
عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ...
اللہ
تعالی نے ”اہل ایمان“ کو حکم دیا کہ وہ......دشمنوں سے مقابلے کے لیے گھوڑے تیار
کریں…یہ حکم آتے ہی..اہل ایمان نے اسے سر آنکھوں پر لیا..مگر ”ابتداء“ میں وسائل کی
کمی تھی...اور گھوڑا ہمیشہ مہنگا ہوتا ہے..اسے اللہ تعالی نے شان بخشی ہے..پھر آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا گھوڑا خریدا..اور اس کا نام”السکب“ رکھا..غزوہ احد میں
مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے تھے...مگر گھوڑوں کی فکر جاری تھی..اس لیے کہ اللہ تعالی
کا حکم تھا..اور اللہ تعالی نے ”جہادی گھوڑے“ کی پیشانی میں خیر، برکت اور فتح کو
مضبوط باندھ دیا ہے..چنانچہ ترقی ہوئی اور ”غزوہ بنی قریظہ“میں اسلامی لشکر میں
چھ گھوڑے تھے..اس غزوہ میں ”مال غنیمت“
خوب ہاتھ آیا..اس مال کو ”نجد“ بھیجا گیا تاکہ فروخت ہو..اور پھر اس کی قیمت
سے..ترجیحی بنیاد پر گھوڑے خریدے گئے..چنانچہ ”غزوہ خیبر“ میں مسلمانوں کے پاس دو
سو گھوڑے تھے..اب الحمدللہ وسعت اور برکت بڑھ گئی تھی تو گھوڑے بھی زیادہ سے زیادہ
خریدے گئے..اور ترقی یہاں تک پہنچی کہ ”غزوہ تبوک“ میں اسلامی لشکر کی تعداد تیس
ہزار تھی..اور انمیں”دس ہزار“ مجاہدین کرام گھوڑوں پر سوار تھے....یہ تھا دو سے دس
ہزار تک کا سفر......پھر اس کے بعد تو یہ حالت ہوئی کہ...جہاد اور گھوڑا...اور
مجاہدین اور گھوڑے...ہر طرف آگے بڑھتے گئے..اور اسلام کی سلطنت اور شوکت دنیا کے ایک
بڑے حصے پر قائم ہو گئی......
ہمارے
زمانے میں...مسلمانوں کا جہاد اور گھوڑے سے تعلق کمزور ہو چکا ہے...اور اب تو اکثر
مسلمان دین کے اس اہم باب کو بھولتے جا رہے ہیں...
ایسے
حالات میں ضرورت تھی کہ.....یہ عظیم نعمت مسلمانوں کو واپس دلانے کی فکر کی
جائے...الحمدللہ مدرسہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ قائم ہوا..اللہ تعالی نے رحمت
اور نصرت فرمائی اور یہ مدرسہ چل پڑا..ابتداء میں آٹھ دس گھوڑے تھے..مگر اب
ماشاءاللہ ان گھوڑوں کی تعداد چونسٹھ (64) ہو چکی ہے..اور ان میں کئی گھوڑے خالص
عربی نسل کے ہیں..اور اُن علامات سے مزین ہیں جو احادیث مبارکہ میں بیان فرمائی گئی
ہیں..
....”الحمدللہ....ماشاء
اللہ لا قوۃ الا باللہ “....
یہ
گھوڑے...”فرس للرحمن“ ہیں..” رحمن“ جل شانہ کی رضا کے لیے وقف گھوڑے....” انفاق فی
سبیل اللہ “میں مال لگانے والے..اور ”انفاق“ کی محنت میں دن رات ایک کرنے
والے..مبارکباد کے مستحق ہیں کہ...ان کی محنت اور ان کا لگایا ہوا مال ضائع نہیں
جا رہا..بلکہ اس سے تو دین کے مٹے ہوئے شعبے بھی.......زندہ ہو رہے ہیں...والحمدللہ
رب العالمین..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله