26.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
میرا
بھی اک سُؤال ہے؟
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں قرآن مجید میں ”تدبر“ کی توفیق عطاء فرمائیں..” تدبر“ کہتے ہیں اچھی
طرح سے غور و فکر کرنے کو...دل کی آنکھیں کھول کر سمجھنے کو...اللہ تعالی کی
عظمت..اور اللہ تعالی کے کلام کی صداقت کو ذہن میں رکھ کر......اچھی طرح سے قرآن
مجید سمجھنے کو......
سورہ
”محمد“...جس کا دوسرا نام سورہ ”القتال“ بھی ہے...اس میں یہ راز سمجھایا گیا ہے
کہ...بد نصیب لوگوں کے دلوں پر تالے ہوتے ہیں..اس لیے وہ قرآن مجید کو نہیں سمجھ
سکتے...
اَفَلَا
یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(محمد۲۴)
..”
تو کیا وہ قرآن مجید میں غور نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں “..
اس
میں یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ.......انسان اپنے بڑے سے بڑے مسائل کا حل...قرآن مجید
سے لے سکتا ہے...مگر شرط یہ ہے کہ ایمان، یقین اور کھلے سینے کے ساتھ قرآن مجید کی
طرف رجوع کرے...
قرآن
مجید.....ایک زندہ، بولتی ہوئی سچی کتاب ہے...کوئی سمجھ کر تو دیکھے..کوئی ”تدبر“
تو کرے..
آج
سؤال یہ پوچھنا ہے کہ... آخر مسلمانوں میں ”تیر اندازی“ کیسے ختم ہو گئی؟...کیوں
ختم ہو گئی؟...اس دن ایک ستر سالہ بزرگ فرما رہے تھے کہ..آج زندگی میں پہلی بار تیر
چلایا ہے...اور ہاتھ میں کمان اٹھائی ہے...یعنی ”تیر اندازی“ کا نام و نشان تک مٹ
گیا.....یہ ”سانحہ“ ان لوگوں کے لیے ”معمولی بات“ ہو سکتی ہے...جنہوں نے قرآن مجید
کی تفسیر نہ پڑھی ہو....جنہوں نے حدیث شریف کی کتابیں نہ پڑھی ہوں...جنہوں نے ”سیرت
طیبہ“ کا مطالعہ نہ کیا ہو..جنہوں نے صحابہ کرام کے حالات زندگی نہ پڑھے
ہوں.....وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کون سی اہم بات ہے کہ...را کٹ اور میزائل کے زمانے
میں ”تیر اندازی“ کرتے رہو....مگر جنہوں نے.....تفسیر، حدیث اور سیرت پڑھی
ہو...حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تیر اندازی کے ساتھ محبت دیکھی ہو....تیر
اندازی کے فضائل پڑھے ہوں..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بارے تاکیدیں پڑھی ہوں.....وہ ضرور سوچتے ہیں
کہ....آخر مسلمان اس نعمت سے یکسر کیوں محروم ہو گئے؟ اگر آپ کہیں کہ دنیا میں اس
کا رواج نہیں رہا تو یہ غلط ہے..دنیا میں کئی جگہ اب بھی ”تیر اندازی“ ہوتی ہے...ٹیمیں
بنتی ہیں..مقابلے ہوتے ہیں..حتی کہ عالمی سطح کے مقابلے بھی ہوتے ہیں.....اگر
مسلمان بھی اس کو اپنا کھیل بنا کر کھیلتے رہتے تو کیا رکاوٹ تھی؟
بات
دراصل یہ ہے کہ..... مسلمانوں کو ”جہاد فی سبیل اللہ“ سے توڑنے کے لیے...ہر اس چیز
کو مسلم معاشرے سے ختم کیا گیا...جس چیز کو دیکھ کر مسلمانوں کو ”جہاد“ یا اپنا
”ماضی“ یاد آئے......اس موضوع پر باقی باتیں...پھر کبھی ان شاءاللہ..فی الحال اتنی
گزارش ہے کہ....احادیث مبارکہ میں ”تیر اندازی“ کے فضائل پڑھیں...اور عمل کے لیے
دعاء اور کوشش کریں.....اگر آپ ”جم“ جاتے ہیں..یا کوئی انگریزی کھیل کھیلتے ہیں تو
اس کی جگہ آپ ”تیر اندازی“ کو لے آئیں....یقین جانیں بہت برکت اور فوائد ملیں گے
ان شاء اللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
