28.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
نِعمَتِ
الٰہی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ”تیر اندازی“ ہے..اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو
نصیب فرمائیں...
خود
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں اسے ”نعمت الہی“ قرار دیا
ہے...اور ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”سنت“ قرار دیا ہے...”تیر
اندازی“ کے مقام کا اندازہ اس سے لگائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو باقاعدہ دعاء دی:-
”اَللّٰهُمَّ
سَدِّدْ رَمْيَهُ وأَجِبْ دَعْوَتَہُ“
ترجمہ:
”یا اللہ ان کی تیر اندازی بہترین فرما دیجئے اور ان کی دعاؤں کو قبول فرمائیے“
اس
کے بعد سے ان کا کوئی تیر نشانے سے خطا نہیں ہوتا تھا اور ہر دعاء قبول ہوتی تھی...اور
غزوہ اُحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا...اے سعد! میرے ماں باپ آپ
پر قربان، تیر چلاؤ..
حقیقی
بات یہ ہے کہ آج جو لوگ..اللہ تعالی کے فضل سے امت میں ”تیر اندازی“ کا ”احیا“ کر
رہے ہیں..یہ لوگ اس امت کے ”خیر خواہ“ ہیں..حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ
عنہ نے اپنے گورنروں کو باقاعدہ حکم جاری فرمایا کہ......مسلمانوں کو ”تیر اندازی“
سکھائی جائے اور آپ فرماتے تھے..
”اَلْمِعْرَاضُ
رَوضَۃٌ مِن رِیاضِ الجَنَّۃِ“
ترجمہ:
تیر اندازی کا ہدف، جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے.....
یعنی
جب کوئی تیر اندازی سیکھنے کے لیے...کوئی ”ہدف“ کھڑا کرتا ہے..تو تیر انداز اپنا تیر
اس پر چلانے کے بعد.....تیر واپس اٹھانے کے لیے..اور نشانہ دیکھنے کے لیے اس کی
طرف چلتا ہے..تو یہ ایسا ہے، جیسا کہ وہ جنت کے باغ میں چل رہا ہے...اس چلنے پر اس
کو اجر ملے گا....اور یہ عمل جنت میں کام آنے والا عمل ہے...”تیر اندازی“ کے فضائل
اور فوائد بہت زیادہ ہیں..اس لیے حضرات صحابہ کرام نے اس پر بہت محنت فرمائی..اور
اس میں ایسی مہارت حاصل کی..جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی..اسی نسبت سے مسلمانوں
میں بڑے بڑے ماہر تیر انداز پیدا ہوئے اور انہوں نے اس مبارک عمل کے اصول و ضوابط
بھی مقرر کیے....
تیر
اندازی کے ساتھ جو نسبت، جو فضیلت اور جو علم منسلک ہو چکا ہے..اس کا تقاضا یہی ہے
کہ یہ عمل ہر زمانے کے مسلمانوں میں جاری رہے..آج کل اگرچہ یہ تھوڑا مہنگا ہے لیکن
جیسے جیسے اس میں شوق اور مہارت بڑھتی جائے گی..یہ سستا بھی ہوتا جائے گا..
الحمدللہ
اس وقت بھی کئی افراد خود کمان..اور سستے تیر بنانا شروع ہو گئے ہیں..جماعت کا ایک
شعبہ بھی اس پر کام کر رہا ہے..اس شعبے کا ”تیر کمان“ کارخانہ ”کچھوے“ کی طرح تیز
رفتاری سے تیر اور کمانیں بنا رہا ہے..اور مزید تجربات کر رہا ہے تاکہ..مسلمان بغیر
کسی بوجھ کے....اس مبارک نورانی عمل سے جڑ جائیں...الحمدللہ ثم الحمدللہ تھوڑی سی
محنت اور توجہ سے...اس وقت ہزاروں مسلمان...اس عمل کو اپنا چکے ہیں..
..والحمدللہ
رب العالمین..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
