29.01.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

تیر اندازی کے ارکان

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی ہمیں ”حق“ کی توفیق عطاء فرمائیں..اور ہر ”باطل“ سے ہماری حفاظت فرمائیں..”حق“ اور ”باطل“ کا دائرہ بہت وسیع ہے..یہاں تک کہ ”کھیلوں“ میں بھی حق اور باطل ہوتا ہے..کئی روایات میں آیا ہے کہ.....ہر کھیل باطل ہے، فضول ہے، بھول ہے سوائے چار کھیلوں کے (۱)تیر اندازی (۲)گھڑ سواری (۳)تیراکی (۴)خاوند اور بیوی کا باہم کھیلنا، دل لگی کرنا..........ان میں سے تین کا تعلق......جہاد اور مؤمن کی مضبوطی سے ہے..اور ایک کا تعلق عفت، پاکدامنی اور تقوی سے ہے...ان مبارک اور مفید کھیلوں سے مسلمانوں کو جو انعامات ملتے ہیں..ان کی تفصیل بڑی دلکش ہے..اور ان پر انسان جو خرچ کرتا ہے..اس پر اجر کا وعدہ ہے..اور خرچ کیا ہوا مال ضرور واپس ملتا ہے....اس وقت مسلمانوں میں جو کھیل ”رواج“ پاچکے ہیں ان میں کئی گناہ اور خرابیاں شامل ہوچکی ہیں..کسی میں جوا ہے، کسی میں وقت کا ضیاع اور کسی میں بے پردگی، بےستری اور غفلت وغیرہ....اس لیے اہل علم، اہل منبر اور اہل دعوت کو چاہیے کہ وہ...تیر اندازی، گھڑ سواری، تیراکی وغیرہ کے فضائل پڑھیں، سمجھیں، اپنائیں اور ان کی دعوت مسلمانوں میں عام کریں.....یہ پرانے اور قیمتی تحفے مسلمانوں میں جاری ہوں گے تو مسلمان نئے زمانے میں زیادہ اچھی ترقی کرسکیں گے.........جن قوموں کا ماضی اچھا ہو...شاندار اور تابناک ہو...وہ قومیں کبھی اپنے ماضی سے کٹ کر.....اپنے حال اور مستقبل میں ترقی نہیں کر سکتیں..آج تیر اندازی کے مکتوبات کا سلسلہ........تیر اندازی کے اصول پر مشتمل چند اشعار کے ذریعے مکمل کرتے ہیں....مزید ”ان شاءاللہ“ اس موضوع پر زیادہ سے زیادہ علمی، تحریری اور تبلیغی مواد بھی تیار کرنے کی کوشش کریں گے...ملاحظہ فرمائیے چند اشعار..

”الرَّمی اَفْضَلَ ما اوصی الرسول بہ -:- واشجع النّاسِ من بالرمی یفتخِرُ“

ترجمہ: تیر اندازی ان چیزوں میں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے...افضل عمل ہے..اور لوگوں میں زیادہ بہادر وہ ہے جو اپنی تیر اندازی پر فخر کر سکے (یعنی بہت ماہر ہو)

أَرْكَانهُ خمسۃٌ القَبْضُ اَوُّلها -:- وَالعَقْدُ، وَالْمَدُّ وَلْإِطْلَاقُ والنَّظْرُ...

ترجمہ: تیر اندازی کے پانچ فرائض ہیں (۱)”اَلقَبْضُ“ (یعنی الٹے ہاتھ سے کمان کے اگلے حصے کو پکڑنا) (۲)”العَقْدُ“ (یعنی سیدھے ہاتھ سے تیر اور تانت یعنی رسی کو پکڑنا)(۳)”الْمَدُّ“ (یعنی تیر کو اپنی طرف کھینچنا) (۴)”الْإِطْلَاقُ“ (یعنی تیر کو ہدف کی طرف چھوڑنا) (۵)”النَّظْرُ“ (یعنی آنکھ سے نشانہ باندھنا)....

دراصل ان پانچ ”ارکان“ کے طریقے ”اہل فن“ اور اہل علم نے مقرر فرمائے ہیں کہ..کتنی انگلیاں استعمال ہوں..نشانہ ایک آنکھ بند کر کے لیں یا دونوں آنکھیں کھلی ہوں..تیر کو کتنا کھینچا جائے..اگلا ہاتھ سخت رکھیں یا نرم وغیرہ......الحمدللہ سارا علم کتابوں میں موجود ہے...ملاحظہ فرما لیں..مکتوب طویل ہو گیا اور ایک شعر رہ گیا....معذرت.....

مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله