30.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مناظرہ
کے فضائل
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے سچے دین کی طرف ”دعوت“ دینے کے لیے...”مناظرہ“ کرنا...ایک عظیم عمل
ہے...اس عمل کا ثبوت قرآن مجید سے ہے:
وَ
جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنْ (النحل (125))
ترجمہ:
اور ان کفار کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے بحث کرو...
اللہ
تعالی نے قرآن مجید میں...کئی انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے ”مناظروں“ کو بیان
فرمایا ہے..مگر صرف اتنا حصہ جسے سننا اور پڑھنا....ایمان کے لیے مفید ہے.....حضرت
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے ساتھ ایک زبردست مناظرہ فرمایا....علامہ
ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی ضروری تفصیل...”جامع بیان العلم و فضلہ“ میں
ذکر کی ہے....حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ”خوارج“ کے ساتھ
مناظرہ فرمایا.....امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے ”مناظرے“ آپ حضرات نے
سنے ہوں گے....حضرت اقدس مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہندوؤں کے ساتھ
مناظرے..مشہور اور متداول ہیں.....”مناظرہ“ کو اہل علم نے دلوں کی شفاء....اور اطمینان
کا ذریعہ قرار دیا ہے...اہل سنت کے نزدیک...پہلے دعوت ہے...پھر نصیحت اور وعظ
ہے....اور پھر ضرورت پڑنے پر مناظرہ....
”مناظرہ“
ایک مشکل اور مہارت طلب کام ہے..اس لیے ہر کسی کو اس میدان میں نہیں کودنا چاہیے..اہل
علم نے ”فن مناظرہ“ پر کتابیں لکھی ہیں...پہلے دینی مدارس میں ”ماہر مناظرین کرام“
نہایت اہتمام سے یہ علم پڑھاتے تھے....بندہ نے بھی الحمدللہ....زمانے کے ممتاز
”مناظرین کرام“ سے یہ ”علم“ کئی بار پڑھا ہے...تمام اساتذہ کرام یہی فرماتے تھے
کہ...”مناظرہ“ صرف ضرورت کے تحت کیا جائے..اور صرف وہی کرے جو اس میں مکمل مہارت
رکھتا ہو....
یہ
ساری تفصیل اس لیے عرض کی کہ.....ایک سابق مکتوب سے یہ نہ سمجھا جائے کہ بندہ نے
”مناظرہ“ کی مخالفت کی ہے..اس مکتوب میں مطمئن اہل اسلام کو...یہ مناظرہ سننے سے
منع کیا تھا کہ.....کفریہ باتیں سننے سے دل پر برا اثر پڑتا ہے..اور جب آپ کا دل ایمان
پر مطمئن ہے تو آپ کو.....کسی ملحد کافر کی بکواس سننے کی کیا ضرورت ہے؟ ہمارے لیے
بس اتنی خبر کافی ہے کہ مناظرہ ہوا.....حق غالب ہوا، باطل ذلیل و رسوا
ہوا...والحمدللہ رب العالمین..
اگر
کسی کو کوئی آکر کہے کہ...تمہارا باپ نہیں ہے..تمہارا باپ نہیں ہے..تو کیا وہ مزے
لے کر سنتا رہے گا؟...تو پھر (نعوذ باللہ) اللہ تعالی کے وجود کا انکار...بار بار
کیوں سنیں؟..
کچھ
شرارتی ملحد...اس مناظرے کو....مسلمانوں کے دلوں میں شبہات ڈالنے کے لیے پھیلا رہے
تھے.....اس لیے اپنے مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی کے لیے وہ مکتوب لکھا تھا..جس کا
الحمدللہ بہت فائدہ ہوا...اور بے شمار مسلمانوں کا یہ ذہن بن گیا کہ...کفر اور
گستاخی کی باتوں کو.....بلا ضرورت کبھی نہیں سنیں گے...والحمدللہ رب العالمین...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
