12.03.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مقبولیت،قبولیت

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی ہمیں ”ایمان“ نصیب فرمائیں...”اخلاص“ نصیب فرمائیں..

حضور اقدس سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:-

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ(بخاری)

ترجمہ: جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے....

دوسری روایت میں فرمایا کہ جس نے رمضان کا قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ..اور ایک روایت میں ہے کہ..جس نے ”لیلۃ القدر“ میں..ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کیا تو اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں..” ایمان“ اور ”احتساب“ کا کیا معنی ہے؟

کل کے مکتوب میں مختصر عرض کر دیا تھا کہ...(ایمان کا معنی) اللہ تعالی پر، اللہ تعالی کے دین پر اور اللہ تعالی کے احکامات پر ایمان لانا..دین اسلام کو دل اور زبان سے قبول کرنا..بے شک ”ایمان“ کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں...اور (احتساب کا معنی) ہر نیک عمل اور ہر عبادت..اللہ تعالی کی رضا کے لیے کرنا..اور اس پر صرف اللہ تعالی ہی سے بدلہ چاہنا..اسی کو اخلاص کہتے ہیں..اور ”اخلاص“ کے بغیر بھی کوئی عمل قبول نہیں..

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ بڑے جامع، وسیع اور مؤثر ہوتے ہیں..”ایماناً و احتساباً“ کے الفاظ میں بھی..نور اور علم کے خزانے پوشیدہ ہیں..ہم ان الفاظ میں جتنا ڈوبتے جائیں گے..اسی قدر نور اور علم پاتے جائیں گے..ان الفاظ میں دراصل...قبولیت اور ترقی کا راز چھپا ہوا ہے..آئیے ان الفاظ کے چند مزیدار ترجمے کرنے کی کوشش کرتے ہیں...

(۱) ہم نے ہر عبادت، ہر نیک عمل اور ہر اچھا کام ایمان کے ساتھ کرنا ہے..یعنی اللہ تعالی کو مان کر کرنا ہے(ایماناً) اور صرف اللہ تعالی کو منانے کے لیے کرنا ہے (احتساباً)

(۲) ہم نے ہر عبادت صرف اللہ تعالی کی بندگی اور نوکری میں کرنی ہے (ایماناً)..اور اللہ تعالی ہی سے مزدوری پانے کے لیے کرنی ہے (احتساباً)

(۳) ہم نے ہر نیکی اللہ تعالی کی مان کر کرنی ہے (ایماناً) اور اللہ تعالی کو خوش کرنے کے لیے کرنی ہے (احتساباً)

(۴) ہم نے ہر عبادت یقین میں ڈوب کر کرنی ہے (ایماناً) اور دل کی خوشی اور محبت سے کرنی ہے (احتساباً)

(۵) ہم نے ہر نیکی کفر، شرک اور انکار سے بچ کر کرنی ہے (ایماناً) اور ریا کاری، دکھاوے اور مخلوق سے کوئی بھی صلہ پانے کے لیے نہیں کرنی (احتساباً)

اللہ کے بندو اور بندیو! ” ایماناً و احتساباً “کی طاقت ور لہر اور آواز کو دل میں بسا لو اور اپنی ہر عبادت اور نیکی کو مقبول اور جاندار بنا لو....

مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله