14.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بابرکت
اور اچھی زندگی کا ایک راز
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی مجھے اور آپ سب کو ”موت“ کا ارادہ نصیب فرمائیں..موت یعنی مرنے کا ارادہ نصیب
ہو جائے تو زندگی بہت اچھی ہو جاتی ہے..بابرکت ہو جاتی ہے..
اچھا
ایک بات بتائیں..کیا ہمارا ”حرمین شریفین“ جانے کا ارادہ ہے یا نہیں؟ یقینا اکثر
مسلمان اس کا ارادہ رکھتے ہیں بلکہ..اس کی آرزو رکھتے ہیں..حالانکہ یقینی نہیں کہ
وہاں جاسکیں گے یا نہیں ؟..ہر مسلمان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا گھر دیکھنے کی آرزو
ہے..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ اطہر دیکھنے کی خواہش ہے..تو پھر ”مرنے“
کا ارادہ کیوں نہیں؟ حالانکہ موت یقینی ہے..اور مرنے کے بعد مؤمن اللہ تعالی کے
پاس چلا جاتا ہے...دراصل ہم نے ”موت“ کو ایک ”آفت“ سمجھ رکھا ہے..اور ہم موت کو
”سلامتی“ کے خلاف سمجھتے ہیں..حالانکہ قرآن مجید سمجھاتا ہے کہ..”موت“ اور ”سلامتی“
ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں..
اللہ
تعالی نے قرآن مجید میں جن کو ”سلامتی“ دینے کا قطعی اعلان فرمایا..موت کا مزہ تو
انہوں نے بھی چکھا..”سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ“..”
سَلٰمٌ
عَلٰى نُوْحٍ“..”سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ“وغیرہ آیات دیکھ لیں..بلکہ حضرت سیدنا
یحیی علیہ الصلٰوۃ والسلام اور حضرت سیدنا عیسی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے تذکرہ میں
فرمایا گیا کہ..ان پر سلامتی جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن ان پر موت آئے گی..اور
جس دن وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے..معلوم ہوا کہ...موت میں بھی سلامتی ہوتی ہے..جو
صرف ایمان والوں کو ملتی ہے..جبکہ کافر زندگی میں بھی سلامتی سے محروم ہیں..اور
موت کی سلامتی بھی انہیں نہیں ملے گی..آپ قرآن مجید میں ”سلامتی“ کا مضمون پڑھیں..آپ
کی آنکھیں حیرت اور خوشی سے کھل جائیں گے..قرآن مجید سمجھاتا ہے کہ..اللہ تعالی
”السلام“ ہیں..سلامتی صرف اللہ تعالی عطاء فرما سکتے ہیں..اور سلامتی کا مفہوم بہت
میٹھا اور بہت وسیع ہے..اسی لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ہر وقت ایک دوسرے کو
سلامتی کی دعاء دیتے رہا کریں..”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ “..
سلامتی
کا مطلب ہے اللہ تعالی کے عذاب سے بچنا..کفر، شرک اور گناہوں سے بچنا..ناقابل
برداشت تکلیفوں سے بچنا..جہنم اور عذاب قبر سے بچنا..گمراہی، محتاجی، معذوری اور
بربادی سے بچنا..بری موت سے بچنا...اور اللہ تعالی کی ناراضی سے بچنا..باقی ”اچھی
موت“ تو مؤمن کے لیے تحفہ ہے..اور موت ضرور آنی ہے..آج یہ موضوع چھیڑنے کی ضرورت یوں
محسوس ہوئی کہ..کئی خوفزدہ لبرل دانشور مسلمانوں کو ڈرا رہے ہیں..کوئی کہہ رہا ہے
کہ ”مسلم ورلڈ“ کا اختتام قریب ہے..کوئی کہہ رہا ہے کہ فورا ٹرمپ کے قدموں میں گر
جاؤ تاکہ وہ ایٹمی حملہ نہ کر دے..ان پاگلوں کو کون سمجھائے کہ موت تو ضرور آئے گی..ایٹمی
حملے سے نہ آئی تو ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے آجائے گی..تو پھر موت کے خوف سے..بے ایمانی
کی باتیں کرنا کہاں جائز ہے؟ باقی رہے مسلمان تو وہ صرف اس وقت ختم ہوں گے جب یہ
دنیا ختم ہونے والی ہوگی..اس سے پہلے کوئی ”مسلم دنیا“ کو ختم نہیں کر
سکتا..مسلمانوں کو چاہیے کہ...موت کا ہمیشہ ارادہ رکھا کریں..موت کی ہمیشہ تیاری کیا
کریں..اس عمل کی برکت سے..زندگی بہت اچھی، آسان اور بابرکت ہو جاتی ہے..اور اگر کسی
کو ”شوق شہادت“ نصیب ہو جائے تو اس کے کیا ہی کہنے...پھر اس کو کیا فکر کہ موت کیسے
اور کب آئے گی؟ وہ تو خود اس کی تلاش اور آرزو میں ہے..
عجیب
بات ہے..دنیا میں مکان بنانے کا ارادہ ہر کسی کا ہے..حالانکہ یہ مکان یہاں رہ جائے
گا اور موت کا ارادہ نہیں....جو لازمی حقیقت ہے..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
