24.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

ایک بڑا راز

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی کے لیے ”قربانی “...اللہ، اللہ، اللہ..بوڑھا باپ اپنے خوبصورت، پیارے، چلتے پھرتے بیٹے کو اللہ تعالی کے لیے قربان کرنے جا رہا ہے...باپ بھی خوش اور مطمئن..بیٹا بھی خوش اور مطمئن..اللہ تعالی کے لیے قربانی..اللہ، اللہ، اللہ..اے نبی! ہم نے آپ کو دنیا اور آخرت میں ”کوثر“ دے دی..”کوثر“ یعنی خیر کا سب سے بڑا خزانہ...”اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ“..یہ ”خزانہ“ حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ نہ کسی کو ملا..نہ ملے گا..اب اس پر شکر کیسے ادا کرنا ہے؟..”فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ“..نماز اور اونٹ کی قربانی سے...اللہ تعالی کے لیے قربانی...بہت بڑا شکر ہے..اللہ، اللہ، اللہ...

اپنی لاڈلی، پیاری اور عظیم بیٹی سے خاص طور پر فرمایا جا رہا ہے..بیٹی جب تمہاری قربانی ذبح ہو رہی ہو پاس کھڑی رہا کرو..اس کے خون کے پہلے قطرے کے ٹپکنے سے تمہارے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے..حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نے پوچھا..یہ فضیلت ہم اہل بیت کے لیے ہے یا سارے مسلمانوں کے لیے؟..فرمایا..ہمارے لیے بھی ہے..اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی..

اللہ اکبر..قربانی کا منظر..مغفرت کا نظارہ ہے..پاس کھڑے رہ کر محبت و مغفرت کے اس منظر کو دیکھنا ہے..قسم سے کسی کا دل ایمان والا ہو تو یہی ایک حدیث ”قربانی“ کا عاشق بنانے کے لیے کافی ہے..میں اس میں غور کرتا ہوں تو دل میں معانی کا سیلاب اُمڈ آتا ہے..مگر الفاظ نہیں ملتے کہ اس کیفیت کو لکھ سکوں..سوچیں کہ کہنے والے کون؟ جن سے کہا جا رہا ہے وہ کون؟..کوئی پاس ہو یا دور..قربانی تو ہو جاتی ہے..پھر ساتھ کھڑے رہنے کا حکم کس لیے؟ پھر خون اور اس کے قطرے اور مغفرت کا تذکرہ..اللہ، اللہ، اللہ..

اے مسلمان! پھر بھی قربانی میں بخل، تنگی اور بے رغبتی؟ اور اس بارے سب سے بڑی حدیث اور ہے..کوئی مسلمان حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھتے ہوئے اسے پڑھے تو ”قربانی“ کے بارے میں..اُسکی قسمت، اس کا نصیب اور اس کا سینہ کھل جائے..صرف ترجمہ لکھ رہا ہوں..ایک ایک جملے کو پڑھتے جائیں..اور اس کی کیفیت میں ڈوبتے جائیں..فرمایا:-

”یوم النحر یعنی دس ذی الحجہ کے دن..اولاد آدم کا کوئی عمل..اللہ تعالی کے نزدیک قربانی سے زیادہ محبوب نہیں..وہ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کُھروں کے ساتھ آئے گا..اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے..اللہ تعالی کے ہاں مقام (قبول) پا لیتا ہے...اس لیے ”خوش دلی“ سے قربانی کیا کرو (ترمذی،ابن ماجہ)

ہائے کاش مسلمان.....”قربانی“ کو ”ولیمے“ جتنی اہمیت ہی دے دیتے تو کہاں سے کہاں پہنچ جاتے...حالانکہ ”ولیمہ“ نہ واجب ہے نہ ضروری..جبکہ قربانی..واجب ہے..اور یہ ”محبت“ کے رازوں میں سے ایک بڑا راز ہے......یہ کسی پر کُھل جائے تو وہ پورا سال پیسہ پیسہ جوڑے اور غربت کے باوجود....قربانی کر کے محبت، مغفرت، برکت اور وسعت پائے..آخر موبائل بھی تو خریدے جاتے ہیں..

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله