26.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

تکبیر کی نورانی لہریں

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی”المتکبّر“ ہیں...سب سے بڑے اور بڑائی والے..وہ پسند نہیں فرماتے کہ ”مخلوق“ میں سے کوئی خود کو بڑا سمجھے..تکبر کرے..وہ ”تکبُّر“ کرنے والوں سے نفرت فرماتے ہیں..انہیں کچھ ڈھیل دیتے ہیں اور پھر ذلیل کر کے..ہمیشہ کی ذلت میں پھینک دیتے ہیں..

..اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ“..[النحل(۲۳)]

”تکبُّر“ کا علاج..” تکبیر“ ہے..اللہ تعالی کو بڑا ماننا..اللہ کو بڑا سمجھنا..اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرنا..خود کو اور دوسروں کو اللہ تعالی کے سامنے جھکانا..اللہ تعالی کے ہر ”حکم“ کو بڑا ماننا..اور اللہ تعالی کی بڑائی میں گُم ہو جانا..

”وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ“[المدثر(۳)]

اس کا لفظی ترجمہ ”خطرناک“ ہے..مگر ہم انسانوں کے حال کی حقیقت ہے..”وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ“اور تو اپنے رب کو بڑا بنا...آدمی سوچتا ہے کہ..استغفراللہ یہ کیا بات  ہوئی؟..رب تو ہے ہی بڑا...اُسے بڑا بنانے کا کیا مطلب؟..مطلب واضح ہے کہ بے شک رب بڑا ہے..سب سے بڑا ہے..مگر کیا تمہارے دل میں بھی بڑا ہے؟..تمہاری آنکھوں میں بھی بڑا ہے؟ تمہارے خیالات اور احساسات میں بھی بڑا ہے؟ ہاں وہ بے شک بڑا ہے..مگر تمہیں اس کی بڑائی اور کبریائی کا فائدہ اور نور تب نصیب ہوگا جب تم اُسے..اپنے دل میں اور اپنی آنکھوں میں بھی بڑا بناؤ گے..بڑا سمجھو گے.. اگر بنا لو گے تو پھر تم ”تکبیر“ کے نور اور لہروں میں ایسے ڈوبو گے، ایسے ڈوبو گے کہ تمہیں سرور آ جائے گا..کیونکہ تم نے حقیقت کو پا لیا اور اللہ تعالی کی ”وحدانیت“ اور ”تکبر“ سب سے بڑی حقیقت ہے...

..اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد..

تم ”تکبر“ کرو گے تو ذلیل ہو جاؤ گے..تم ”تکبیر“ کہو گے تو عزت پاؤ گے..”تکبر“ والوں کو اپنی بڑائی دکھانے، سمجھانے اور منوانے کے لیے کیسی کیسی ذلتیں اٹھانی پڑتی ہیں..پھر کچھ نام، شہرت وغیرہ مل بھی جاتی ہے..مگر بے حد عارضی..جبکہ ”تکبیر“ والے بس اللہ تعالی کی بڑائی بولتے ہیں، اللہ تعالی کی بڑائی سمجھاتے ہیں..اللہ تعالی کے سامنے جھکتے ہیں..اور اللہ تعالی کی مانتے ہیں..وہ اپنے اندر اللہ تعالی کو بڑا بناتے اور مانتے جاتے ہیں اور اللہ تعالی ان کو ”عزت“ اور ”کامیابی“ دیتے جاتے ہیں....

..اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد..

کوئی کہہ سکتا ہے کہ..اللہ تعالی کو سب ہی بڑا مانتے ہیں..یہ بات سچ نہیں..اگر ایسا ہوتا تو کوئی کفر کیوں کرتا..کوئی شرک کیوں کرتا..کوئی تکبر کیوں کرتا ہے..کوئی ”میں میں“ کیوں کرتا..ہم دنیا میں جن کو واقعی اپنا بڑا مانتے ہیں..ان کے ساتھ ہمارا معاملہ کیا ہوتا ہے؟..ہم ان کے سامنے ان کی نافرمانی نہیں کرتے..ہم ان سے شرم اور حیا کرتے ہیں..ہم ان کی بات کا یقین کرتے ہیں..اگر کسی بات پر قسم کھا لیں تو اس بات کو  ”حرف آخر“ مانتے ہیں..ہم ان کے بارے بخل نہیں کرتے..ہم ان پر جان نچھاور کرتے ہیں..کیا اللہ تعالی کے ساتھ بھی ہمارا یہی معاملہ ہے؟حالانکہ وہ سب سے بڑا ہے..اور ہمارا مالک ہے..وہ قسمیں کھا کھا کر ہمیں جو کچھ سمجھاتا ہے اور بتاتا ہے..ہم اس پر بھی کان نہیں لگاتے..ہم جب اکیلے اس کے سامنے ہوتے ہیں تو خود کو ہر گناہ کے لیے آزاد سمجھتے ہیں..وہ ہمیں ”میرا بندہ“!...”میرا بندہ“! کہہ کر بلاتا ہے مگر ہم اپنے نفس اور اپنی خواہشات میں ڈوبے رہتے ہیں..ارے اپنے دل کی دنیا بدلو..اللہ اکبر کا نور دل میں اُتارو..”تکبیر“ پڑھو اور ”تکبیر“ کو دل میں بسا لو...

..اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد..

کافروں، مشرکوں کو چھوڑیں....مسلمانوں کو ہی دیکھ لیں..ہر چیز کی بڑائی ان کے دلوں میں بہت بڑی بن جاتی ہے..دنیا، مال و دولت، اپنی عزت، اپنی بیماری، اپنی پریشانی...ہر چیز بہت بڑی..دل میں اگر نہیں تو اللہ تعالی کی ”بڑائی“ نہیں..بڑائی ہوتی تو کبھی تو اس سے خوش اور راضی ہو جاتے..اس نے ہمارے لیے آگے کیا کیا تیار فرما رکھا ہے..اس نے موت کی صورت میں ہم سے اپنی ملاقات کا وعدہ کر رکھا ہے..اس نے ہم سے بڑی بڑی نعمتوں اور جنتوں کا وعدہ کر رکھا ہے..کبھی ہم نے یقین کیا؟ ہم نے تو بس اپنی وقتی حاجت، خواہش اور ضرورت اس سے پوری کرانی ہوتی ہے..وہ پوری نہ ہو تو ناراض، مایوس اور غمزدہ..ہائے ہم نے اپنے رب کی عظمت اور بڑائی کو سمجھا ہوتا تو اس کی ”تقدیر“ پر شکوے کیوں کرتے؟ اللہ تعالی ہمیں ”تکبیر“ کی نعمت عطاء فرمائیں..

..اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد..

”غزہ“والوں کو مبارک ہو..انہوں نے ”تکبیر“ کی بلندی کو پا لیا..وہ ”اللہ اکبر“ کے علاوہ کسی کے سامنے نہیں جھکتے..کٹ جاتے ہیں..مگر اللہ تعالی کے سوا کسی کو بڑا نہیں مانتے..کشمیر والوں کو مبارک..مجاہدین کو مبارک..دنیا میں مظلوم اور اکیلے..مگر ”تکبیر“ کی نعمت سے سرفراز..یہ جب مرتے ہیں ”تکبیر“ کی لہروں میں بلند سے بلند ہوتے چلے جاتے ہیں..رب کی اصل نعمتیں پاتے ہیں..ہمیشہ کی کامیابی سمیٹتے ہیں..مگر وہ نام کے مسلمان..جو اپنی فانی زندگی..فانی عہدوں اور فانی عیش کے لیے..” تکبیر“ کو توڑتے ہیں..کافروں کو بڑا مانتے ہیں..حقیر سائنس کی پوجا کرتے ہیں..دنیا کی طاقتوں سے ڈرتے ہیں..اور ان کے سامنے جھکتے ہیں..یہ کہاں جائیں گے؟ مرنے کے بعد ان کو ”تکبیر“ سنائی دے گی..اللہ اکبر ، اللہ اکبر.. مگر ان کے پاس تکبیر کی لہروں میں سفر کا ٹکٹ نہیں ہوگا..انہوں نے جن کو بڑا مانا تھا وہ تو وہاں ہوں گے نہیں....وہ ”ذلتوں“ کے آگ والے عذاب میں گرے پڑے ہوں گے.... اے مسلمانو! ایام تشریق شروع ہو گئے..آج فجر سے ہر نماز کے بعد ”تکبیر“ واجب ہوگی....آپ سب کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا ”امتی“ ہونا مبارک....آپ سب کو ”تکبیر“ مبارک.. ”تکبیر“ پڑھنا مبارک.. ”تکبیر“ سوچنا مبارک..تکبیر پر یقین رکھنا مبارک.. ”تکبیر“ پر عمل کرنا مبارک..

..اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد..

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله